بلوچ طلباء تعلیمی درسگاہوں میں محفوظ نہیں،بلوچستان یونیورسٹی سے لاپتہ طلباء کو فی الفور بازیاب کیا جاٸے۔میر عبدالرؤف مینگل
کوٸٹہ :بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن اور سابق ایم این اے میر عبدالرؤف مینگل نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ بلوچستان میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے آئے روز نوجوانوں,سیاسی ورکروں اور طلباء کو تعلیمی اداروں سے اغوانما گرفتاریاں اور لاپتہ ہونا تشویشناک ہیں۔
اس ضمن میں ریاستی اداروں کی منفی کردار و حکومتی حلقوں کی طرف سے مثبت کردار ادا نہ کرناغفلت کی نشانی اور بلوچ نوجوانوں کو تعلیمی اداروں سے دور رکھنے کا منفی ہتکھنڈے ہیں۔
انہوں نے کہاہے کہ رواں ماہ میں دو طلباء سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کی بلوچستان یونیورسٹی کے احاطے سے لاپتہ ہوجانا ایک منفی اور قابل مزمت عمل ہے۔ جبری گمشدگی جیسے سنگین مساٸل کو حل کے لئے تمام متعلقہ ادروں کو مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔اگر خدانخواستہ اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ نہ دی گئی تو یہ عمل سیکورٹی اداروں کی کردار پر سیاہ کالک کی طرح ہر وقت چمٹارہےگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ نوشکی سے تعلق رکھنے والےطلباء سمیت تمام سیاسی کارکنوں کی باحفاظت بازیابی جلد عمل میں لائی جائے۔ کیونکہ آٸے روز نوجوانوں کی لاپتہ ہونا خصوصا تعلیمی درسگاہوں کے احاطے سے لاپتہ ہونے سے عوام میں جو تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جسکی وجہ سے والدین نے اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے انکاری ہے۔


