صادق سنجرانی کی مخالفت کرنے والے بلوچستان کے خیر خواہ نہیں، عبدالکریم نوشیروانی
کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے نائب صدر سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی کی مخالفت کرنے والے بلوچستان کے خیر خواہ نہیں ہے مرکز میں انہوں نے بلوچستان کی بہتر نمائندگی کی ہے مخالفت برائے مخالفت سے صوبے کے عوام کا ہی نقصان ہوگا ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان کیا میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا کہ بلوچستان کے پشتون اور بلوچوں میں ایک دوسرے کے مخالفت کرنا ایک روایت بن چکی ہے ہمیں چاہیے کہ جو صوبے کے عوام کی بھر پور خدمت کررہے ہیں ان کو نہ صرف مضبوط کریں بلکہ انہیں اپنی حمایت کی یقین دلائی تاکہ وہ اسلام آباد میں بیٹھ کر بلوچستان کے عوام کی بہتر نمائندگی کرسکے مخالفت برائے مخالفت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ بلوچستان کا ہی نقصان ہوگاایوان بالا میں چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی نے صوبے کے ہر مسئلے پر بھرپور آواز اٹھائی ہے انگریزوں نے بھی سنجرانی قوم کے سردار کی حمایت کی ہے کہ 100برس گزربھی جائے انہیں ہر ملک میں جگہ ملے گی لیکن سنجرانی قوم پاکستان کے ساتھ وفادار ہے انہوں نے کئی جانے کی بجائے پاکستان میں رہ کرے اس ملک کی خدمت کی ہے بلوچ اور پشتون صوبے میں ہمیں چاہیے کہ مخالفت برائے مخالفت کی بجائے ایک دوسرے کا بازو بننا چاہیے تاکہ بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے میر عبدالکریم نوشیروانی نے مزید کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ملک سے مہنگائی کے خاتمے کیلئے بھرپور کوشش کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ایک روپے ٹیکس لگاتا ہے تو تاجر 10روپے منافع کے ساتھ عوام سے وصول کرتے ہیں چیف جسٹس سپریم کورٹ ملک میں مہنگائی کا نوٹس لے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جاسکے۔


