پاکستان کے اثاثے 74سالوں سے گروی ہیں، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ
اوستہ محمد: نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ وبلوچ بزرگ قوم پرست رہنماء ڈاکٹرعبدالحئی بلوچ نے کہاہے کہ پاکستان کے اثاثے گروی رکھے جارہے ہیں بظاہر تو عوام کی اب علم میں آرہی ہے لیکن یہ اثاثے 74سالوں سے گروی ہیں جس کا عام آدمی کو پتہ نہیں تھا، ہماری معیشت عالمی اداروں اور قوتوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں،ہمیں آئندہ کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ پیٹا ہے کہ حکمران ملک کو فروخت کر رہے ہیں لیکن عام آدمی کو پتہ نہیں چل رہا تھا اب جب موٹر وے اور ایرپورٹ کو گروئی کرنے کا اسمبلی میں بل پاس ہوا تو اب ہر عام آدمی کو پتہ چل رہا ہے لیکن بد قسمتی سے ہم 74سالوں سے گروئی ہیں ہماری معشیت علمی قوتوں کے ہاتھوں میں ہے اور ہمارے حکمران ان کے تابے ہیں جس طرح وہ کہیں گے وہی یہ کریں گے اب دیکھیں گے آگے کیا ہوگا، ہم تو ہمیشہ یہی پیٹتے آرہے ہیں اور اب بھی یہی کہیں گے کہ جموریت کو ساورن کیا جائے قابضین اپنا قبضہ چھوڑیں تاکہ سیا سی لوگ اس حالات کو ملک کو گروئی ہونے سے بچائیں، سرکاری اخرجات کو کم کیا جائے اگر یہ اثاثے مزید گروئی ہوئے تو ملک تباہی کی طرف جائے گا لوگ بھوکے مریں گے، ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالحی بلوچ نے کہا کہ غیر جموری قوت سیا ست میں انوال نہ ہوں وہ اپنا کام کریں سیا سی لوگ اپنا کم کرنے دیں تو ملکی قرضہ سیا سی لوگ اتار سکتے ہیں عوام کو اب جاگنے کی ضرورت ہے ملکی اثاثے گروی کرنا قابل مذمت ہے ہم سب اس کی مخالفت کریں گے۔


