خاران گرلز ڈگری کالج اسٹوڈنٹس کی فریادیں سننے والا کوئی نہیں

تحریر وقار ملک
خاران گرلز ڈگری کالج کے پرنسپل سٹوڈنٹس کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا اور میرٹ کی پامالی بند کرے،ہر دن اے ایک نیاء تماشاء سٹوڈنٹس کے ساتھ ہوتا نظر آرہا ہے کبھی سکالرشپ کی صورت میں کبھی فیسوں کے کرپشن میں،آخر یہ عدلیہ اور انتظامیہ کس کیلئے ہیں کچھ مہینے پہلے خاران ڈگری گرلز کالج سے لیپ ٹاپس کیلئے لسٹبھیجی گئی تھی جس میں سے صرف اور صرف پرنسپل صحافیہ صاحبہ نے اپنے اور اسٹاف کے لوگوں کے اپنے و من پسند اور سفارشی لوگوں کے بچوں کے نام لسٹ کی بناء نہیں دیئے، خاموشی سے جو کسی سٹوڈنٹس کے علم بھی نہیں تھا، اور دو بارہ ریجیکٹ ہونے کے باوجود بھی پرنسپل صاحبہ نے ڈائریکٹر کو اپنے من پسند سٹوڈنٹس کی لسٹ بناکر بھیجی، آخر کار جب لسٹ واپس ٓئی اس میں کسی ایک ریگولر سٹوٹنٹس کا نام شامل نہیں تھا اور جو بھی قابل سٹوڈنٹس ہیں جنہوں نے اپنے سبجیکٹ میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی ٹاپ 20 میں 900سے 700 نمبرز تک ان سٹوٹنٹس کا نام و نشان نہیں ملتا یہ لیپ ٹاپس لسٹس میں اور ان لوگوں کے بچوں کے نام شامل جنہوں 400 نمبر c گریٹ سے پاس ہوے ہیں
جنکو پرنسپل نے بغیر میٹنگ بغیر سٹوڈنٹس کو اطلاع سے اپنے آپ انکے نام لسٹمیں ڈال دیئے اور اپنے تمام رشتے داروں اور مند پسند امیروں کے بچوں کا نام شامل کر کے لسٹ بناء کے لے آئیں،یہ لسٹ قابل قبول نہیں کسی سٹوڈنٹس کو اور ابھی اے بھجنے والا لسٹ اور ایک نئی لسٹ جو انکے اسٹاف اسکے محتاج ہیں اور دونوں لسٹس سٹوٹنٹس سے جو انکے کارناموں کا جیتا جاگتاء ثبوت ہے، ہم سٹوڈنٹس اس لسٹ کو میرٹ کی پامالی سمجھ کے اور پرنسپل کی ناانصافی اور سٹوڈنٹس کی حقوق پر ڈاکہ سمجھ کے غیر جانبداری سمجھ کے مسترد کرتے ہیں ہم گرلز ڈگری کالج خاران کے سٹوٹنٹس کمیشنر صاحب ڈپٹی کمیشنر صاحب اسیسٹنٹ کمیشنر صاحب عدلیہ اور ایم این اے اور ایم پی اے صاحب سے دست بند اپیل کرتے ہیں اس ناانصافیوں کا جلد از جلد نوٹس لیا جاے

اپنا تبصرہ بھیجیں