حکومتی کوششوں کی بدولت پنجاب کے جامعات میں بلوچستان کے طلبہ کیلئے کوٹہ میں 2گنا اضافہ ہوا ہے، نصیب اللہ مری
کوئٹہ: صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ خان مری نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کو تعلیم کی سہولیات کی انکی دہلیز پرفراہمی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کارلارہی ہے،حکومت کی کوششوں سے پنجاب کی یونیورسٹیوں میں بلوچستان کی طالبات کیلئے کوٹہ میں 2گنا اضافہ ہوا ہے دور دراز علاقوں کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 350سے زائد اساتذہ کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ گلوبل پارٹنر شپ کے تحت1493اساتذہ کو ریگولر کردیا گیا ہے،سبی اور واشک میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی برانچیں فوری کھولنے کی ہدایت کردی گئی ہے آج سبی میں برانچ کھولنے کیلئے جگہ کے معائنے کے علاوہ حکام سے ملاقات کروں گا۔ یہ بات صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ نے وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے سرکاری دورے پر سبی پہنچنے پر مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں صوبے کے دور دراز اسکولوں میں ٹاٹ سسٹم ختم کرنے اور سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے اور جلد ہی سرکاری سکولوں میں تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سبی،کوہلو،کچھی، واشک، خاران، دالبندین،چاغی اورگردونواح کے طلباء کی سہولت کیلئے ایک ہفتے کے اندراندرسبی اور واشک میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی برانچیں فوری کھولنے کی ہدایت کی ہے اسی سلسلے میں آج وہ سبی میں بورڈ کی برانچ کھولنے کیلئے جگہ کا معائنہ اور متعلقہ حکام سے ملاقات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ صوبے کے دور دراز علاقوں کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو ختم کیا جائے اس سلسلے میں 350سے زائد اساتذہ کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ 1493گلوبل پارٹنرشپ اساتذہ کو ریگولر کیا گیا ہے جبکہ مزید اساتذہ کی تعیناتیاں بھی جلد ہی عمل میں لائی جائیں گی۔ میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ وہ خود صوبے کے دور درازعلاقوں کے سرکاری تعلیمی اداروں کا دورہ کرکے وہاں تعلیمی سہولیات کا جائزہ لیں گے اور اساتذہ کی حاضری چیک کریں گے اگرکوئی استاد یا دیگر عملہ کی حاضر حاضری کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اگر کوئی غیر حاضرپایا گیاتواسکے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


