حکومت کی جانب سے ارکان پارلیمان اور بااثر افراد کو نجی سیکورٹی گارڈ رکھنے کی اجازت منسوخ کئے جائیں،ہائیکورٹ

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز جناب جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جناب جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے پارلیمنٹیرین کے نجی سکیورٹی اور اس ضمن میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ / احکامات کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی درخواست گزار سید نذیر احمد آغانے درخواست میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پاکستان اسلام آباد کو فریق بنایا معزز عدالت کی جانب سے حکم جاری کرنے سے قبل مذکورہ آئینی درخواست میں اختیار کئے گئے موقف اور اس پر بحث کے حوالے سے جناب جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نیریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ آئینی درخواست میں استدعا کی گئی کہ 1.پارلیمنٹیرینز کی نجی سکیورٹی کے لیے مختص 100 ملین کے فنڈز کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 5،8 اور 25 کی خلاف ورزی پرغیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے2.سیاسی شخصیات اور چند افراد کی سفارشات پر لیویز ایکٹ 2010 کے سیکشن 16 اور پولیس ایکٹ 2011 کے سیکشن 14 کی آڑ میں میں پرائیویٹ اہلکاروں کی صورت میں اضافی فورس کی بھرتی کو غیر قانونی غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا جائے3.جواب دہندگان کو حکم دیا جائے کہ ایسی سیاسی شخصیات اور چند افراد کے حق میں پولیس ایکٹ 2011اور لیویز ایکٹ 2010 کی آڑ میں جاری کیے گئے تمام غیر قانونی اقدامات/ اعلامیہ جن میں تشکیل شدہ اصولوں کو ملحوظ نہیں رکھا گیا انہیں غیر قانونی اور کالعدم قرار دے کر واپس لیا جائے4.سرکاری جواب بندگان کو حکم دیا جائے کہ وہ پارلیمنٹرینز کی سیکورٹی کی غرض سے بلو بک میں درج ذیل اصولوں پر عمل کرے۔5.معزز عدالت انصاف کے مفاد میں اگر مناسب سمجھیں تو اور بھی کوئی ریلیف دیں معزز بنج کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے لیویز فورس ایکٹ2010 کے سیکشن 16 اور بلوچستان پولیس ایکٹ 2011 کے سیکشن 13 اور 14 کو امتیازی غیرآئینی اور آئین کے آرٹیکل18 اور 25 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا۔معزز عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے متعلقہ دلائل کو مزید تفصیل سے بیان کرنے سے قبل یہ بتانا مناسب ہوگا کہ اب یہ طے ہو چکا ہے کہ قانون کو تباہ کرنے کی بجائے محفوظ کرنا چاہیے اور عدالتوں کو قانون سازی کی آئینی حیثیت /حق کو برقرار رکھنے کے لئے سر تسلیم خم کرنا چاہیے یہی آئینی تشریح کا اصول ہے کہ ہمیشہ ایک مفروضہ قانون سازی کی آئینی حیثیت کے حق میں موجود ہوتا ہے اس سوال پر اعتراض کی گنجائش بھی نہیں کہ ایک قانون کی ایک شق کے درمیان ظاہری امتیازی فرق ہو سکتا ہے اور جو امتیازی طریقے پر سروس میں دبائے جانے کے قابل بھی ہو سکتا ہے اول الذکر شق کو تو آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی پر کالعدم کیا جاسکتا ہے لیکن مؤخر الذکر شق کو اس بنیاد پر کالعدم نہیں قرار دیا جاسکتا کہ وہ امتیازی طریقے سے استعمال ہو سکتا ہے تاہم کوئی بھی امتیازی کارروائی جو ایسی شق کے تحت کی جا سکتی ہے کو کالعدم کیا جاسکتا ہے معزز عدالت نے مزید کہا کہ فریقین کے وکلا کو سننے اور مذکورہ بالا اصولوں کی روشنی میں قانون کی مذکورہ بالا دفعات پر غور کرنے کے بعد عدالت درخواست گزار کے استدلال سے متفق نہیں کہ مندرجہ بالا دفعات امتیازی ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے آرٹیکلز 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہیں اہم سوال جس کا تعین کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آیا ایکٹ میں موجود دفعات صوابدیدی اور امتیازی ہیں جن کو اس طرح استعمال میں لایا گیا یا تاکہ آئین کے آرٹیکل 25 میں موجود ضمانتوں کی خلاف ورزی ہو اور قانون کے مساوی تحفظ کے خلاف ہو ہمارے نزدیک مذکورہ دفعات نہ تو صوابدیدی ہیں اور نہ ہی امتیازی کیونکہ یہ برابری ریاضی کے حساب اور درستگی کے لحاظ سے نہیں ہونی چاہیے یہ ایک جیسوں کے درمیان ہونی چاہیے یہ برابری ان افراد کے درمیان ہونی چاہیے جن کا واسطہ ایک ہی جیسے حالات سے ہے جہاں تک درخواست گزار کے استدلال کہ جواب دہندگان کی جانب سے اب تک بلوچستان لیویز ایکٹ 2010 کے سیکشن 16 اور بلوچستان پولیس ایکٹ 2011 کے سیکشن 14 کی آڑ میں اٹھائے گئے اقدامات کا تعلق ہے ہم درخواست گزار کے ساتھ متفق ہونے کے لیے قائل ہے کہ وہ فوری طور پر پر کالعدم قرار دینے کے قابل ہیں مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ سیکرٹری داخلہ حکومت بلوچستان انسپکٹر جنرل آف پولیس اور لیویز فورس کے ڈائریکٹر جنرل نے متعدد پرائیویٹ بااثر افراد کو پرائیویٹ لیویز سیکورٹی گارڈ رکھنے کی اجازت دی جبکہ وہ سرکاری کارڈز اسلحہ اور یونی فارم استعمال کر رہے ہیں جو کہ قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے درحقیقت یہ دونوں سیکشنز مقننہ نے پاکستان ریلوے لائنز بجلی کے کھمبوں نہروں گیس پائپ لائنوں اور دیگر عوامی کام وغیرہ کی حفاظت کے لیے بنائے تھے یہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری آئی جی پولیس ڈائریکٹر جنرل لیویز کی مرضی نہیں ہے کہ امیر لوگوں کو اجازت ہو کہ وہ ریاستکی طاقت کے خریدار بن کر اپنی دولت کے بل بوتے پر ریاست کے اندر ریاست تشکیل دیں آئین کے آرٹیکل 25 میں کہا گیا ہے کہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانون سے یکساں حفاظت کے حقدار ہیں کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ لوگوں یا اسی طرح کی چیزوں کے درمیان تفریق کریں سرکاری جواب بندگان کی طرف سے اختیارات کا من مانے طریقے سے استعمال کرنا وہ بھی قواعد، پالیسی، رہنما خطوط اور قانونی حمایت کی عدم موجودگی میں بالکل غیر قانونی ہے ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ کوئی قانون اپنی دفعات لاگو کرنے کے لئے افراد یا چیزوں کی درجہ بندی نہیں کر سکتا لیکن یہ حکومت پر چھوڑا جا سکتا ہے کہ ایسے افراد یا چیزوں کا انتخاب اور درجہ بندی کرے جن پر اس کی دفعات لاگو ہوں تاہم درجہ بندی کے انتخاب کے سلسلے میں ایسے اختیارات بے قابو اور بے لگام نہ ہومذکورہدفعات کی غلط تشریح کرتے ہوئے جواب دہندگان کی جانب سے اس طرح کے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کی ایک بہترین مثال دوبارہ پیش کیا گیا ڈپٹی کمشنر دکی کو لکھا گیا ایک مراسلہ ہے جس کے تحت ایک پرائیویٹ فرد یعنی محمد انور خان ناصر سابق ناظم دکی کو پانچ پرائیویٹ لیویز سیکورٹی گارڈ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے بلاشبہ پرائیویٹ افراد کے لیے ایسی اجازتوں کا اجراء انہیں اپنی خود کی ملیشیا کی تشکیل دینے کے سوا کچھ نہیں جو کہ متوازی ریاست یا نان اسٹیٹ ایکٹر کے طور پر کام کر رہی ہے ریاست کے اندر ریاست کا ہونا آئین کے بنیادی حقوق کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے آئین کے آرٹیکل 256 میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ کوئی نجی تنظیم جو ملٹری تنظیم کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں نہیں بنائی جائے گی اور ایسی کوئی تنظیم غیر قانونی ہو گی بلاشبہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور یہ تمام شہریوں کا بنیادی حق ہے کہ ان کے جان و مال کا تحفظ ریاست کرے یہ بات قابل ذکر ہے کہ پرائیویٹ ملیٹری آرگنائزیشن(ابولیشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 1974 کے سیکشن 2 کی وضاحت سے جو پوری پاکستان پر محیط ہے تفصیلاً کہتی ہے کہ کسی تنظیم کو ایک فوجی تنظیم کے طور پر کام کرنے والا سمجھا جائے گا اگر وہ مقصد کے حصول میں جسمانی طاقت اور اس کی نمائش کے لیے منظم تربیت یافتہ اور لیس ہو۔ کوئٹہ شہر میں باآسانی نوٹس کیا جا سکتا ہیکہ با اثر افراد مذہبی سکالر،سیاستدان،ڈاکٹرز، منتخب نمائندے،وکلا، کان کے مالکان،تاجر، دانشور اور قبضہ گیر سینکڑوں مسلح پرائیویٹ لیویز گارڈ کے ساتھ گھوم رہے ہیں اور یہ کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ہ انہوں نے ایس ایس جی کمانڈوز، لیویز پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم فورس کی وردیاں پہن رکھی ہیں اور کوئٹہ شہر کی شہری ان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد میں تمیز کے حوالے سے پریشان ہیں ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ بلوچستان کے قبائلی سرداروں جاگیرداروں نوابوں اور سرداروں اور وڈیروں کو قبائلی دشمنیوں کی وجہ سے جان کے خطرات لاحق ہیں تاہم سرداری نظام کے خاتمے کے ایکٹ 1976 کے نفاذ کے بعد انہیں اپنی ذاتی دشمنی ریاست کی طاقت کے بل بوتے پر طے کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی مذکورہ ایکٹ کے تمہید میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے چند حصوں میں سرداری نظام جابرانا جاگیردارانہ اور قبائلی نظام کی بدترین باقیات ہے جو انسانی وقار،آزادی جمہوریت اور مساوات کی روح کے منافی ہے اور عوام کی معاشی ترقی کے خلاف ہے سیکیورٹی کے جھوٹے اور من گھڑت عذزرپر یہ سہولت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی جو ایک ایسے طبقے کی تشکیل کے مترادف ہے جو رول آف لاء سے منسلک بنیادی اصول اور قانون کی نظر میں شہریوں کی برابری کے اصول کو خطرے سے دوچار کر تی ہے جوابدہندگان کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں 107 پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں اور مختلف کاروباری اداروں جیسا کہ بینک موبائل کمپنیاں پاور جنریشن کمپنیاں نے ان کی خدمات اپنے خرچ پر حاصل کر رکھی ہیں لیکن بدقسمتی سے اشرافیہ جسے صوبے کے پسے ہوئے عوام کی خدمات کرنی تھی انہوں نے مذکورہ دفعات کی آڑ میں اپنے ہی اہلکاروں کو سرکاری ملازمین کا درجہ دلایا یہ عمل عام لوگوں کے درمیان خوف اور بے چینی کا باعث بن رہا ہے کیونکہ زیادہ تر ایسے افراد کا اپنا پولیس ریکارڈ ہے اور وہ بری شہرت کے مالک ہیں جدید اور جمہوری ریاستوں میں ایگزیکٹو/ قانون ساز اداروں سے والدین کی طرح برتاؤ رکھنے کی توقع کی جاتی ہے جو اقتدار،حیثیت اور مراعات سے لطف اندوز ہونے والوں کی بجائے محروم/ خصوصی بچوں / افراد کے حقوق کو تحفظ فراہم کریں گے تاہم بلوچستان میں صورتحال یکسر برعکس ہے ملک کے اس حصے میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ جن لوگوں کو شہریوں نے اقتدار سونپا ہے وہ اقتدار اشرافیہ کو بلاجواز زیادہ مراعات دینے کے لئے استعمالکرتے ہیں ہمیں آگاہ کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ذاتی لیویز سیکورٹی گارڈ کی 445 آسامیوں کی منظوری دی تھی محکمہ داخلہ میں دوران سال -2011 -12 اور 2014- 15 اور ہر سال صوبائی بجٹ میں گرانٹ ان ایڈ کے ہیڈ میں صوبائی ایم پی ایز، ایم این ایز، سینیٹرز کی سیکورٹی ظاہر کی جاتی ہے ان کی تنخواہ صوبائی حکومت ادا کرتی ہے اور اس مد میں موجودہ مالی سال میں سو ملین روپے ظاہر کیے گئے ہیں صوبائی حکومت پہلے ہی مالیاتی بحران اور بجٹ میں بھاری خسارے کا سامنا کر رہی ہے سرکار کی قیمت پر اشرافیہ کو سہولت فراہم کرتے ہوئے اتنی رقم مختص کرنا ایک پرتعیش فعل کے سوا کچھ نہیں۔ ریکارڈ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ بلوچستان بھر میں 107 پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور ایسے افراد سرکاری خزانے پر بوجھ ڈالے بغیر اپنے وسائل سے ان کی خدمات لے سکتے ہیں یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ بلوچستان کانسٹیبلری جو کہ اٹھائیس سو اہلکاروں پر مشتمل ایک ریز فور س ہے جب کہ حکومت اپنی آقاؤں کی غیرقانونی احکامات پر عمل کرتے ہوئے قانونی تربیت و تعلیم سے عاری نئی فورس بنانے کی بجائے بلوچستان کانسٹیبلری کے چار سو/ پانچ سو ملازمین سپئر کر کے ان ایم پی ایز۔ ایم این ایز اور سینیٹرز وغیرہ کی سیکورٹی کے لیے رکھ سکتی ہے عدالت یہ درخواست مذکورہ بحث کی روشنی میں ان شرائط کے ساتھ نمٹاتی ہے کہ 1. تمام ایسے احکامات جو کہ آئی جی پولیس ڈی پی اوز ڈائریکٹر جنرل بلوچستان لیویز فورس اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور حکومت بلوچستان نے لیویز فورس ایکٹ 2010 کے سیکشن 16 آور بلوچستان پولیس ایکٹ 2011 کے سیکشن 13 اور 14 کی آڑ میں پارلیمنٹرین(ایم این ایز۔ایم پی ایز، سینٹر اور نجی افراد کو پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ رکھنے کی خدمات لینے کے لیے جاری کیے ہیں انہیں فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے 2. پرائیویٹ فرمں وں کے مالکان، بزنس آؤٹ لیٹس کان کے مالکان اور افراد کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی سیکورٹی کے مقصد کے لیے پرائیویٹ رجسٹرڈ سیکیورٹی فرمز کی خدمات حاصل کریں جیسا کہ نجی بینک نے حاصل کی ہے اور اس کی اجازت محکمہ داخلہ اور قبائلی امور حکومت بلوچستان سے لینا شرط ہے 3. بلوچستان کے قابل ذکر حقیقی سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنے والے سیاست دانوں سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے کیسز ڈسٹرکٹ اینڈ انٹیلیجنس کوارڈینیشن کمیٹی اور ڈویژنل تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی کے سامنے غور اور سفارشات کے لیے رکھنے کی غرض سے ڈپٹی کمشنر سے رجوع کرے ایک بار سفارشات حاصل ہونے کے بعد انہیں اپنے اخراجات پر نجی رجسٹرڈ سکیورٹی فرموں کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری اور اجازت کے لیے محکمہ داخلہ وقبائلی امور بھیجا جا سکتا ہے کسی پرائیویٹ شخص کو بغیر لائسنس کے اسلحہ لے جانے نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چلانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مبینہ جاری کردہ کارڈ /اجازت نامے کے بل بوتے پر کالے شیشہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے 4. ایسے تمام پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ جو کہ اسلحہ سے لیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشابہ یونیفام محکمہ داخلہ ڈی جی بلوچستان لیویز فورس اور پولیس کی اجازت سے پہنتے ہیں ان کا یہ عمل پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت قابل تعزیر جرم تصور ہوگا 5. ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حکومت بلوچستان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ رجسٹرڈ فرموں سے پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ کی خدمات حاصل کرنے کے لئے ایس او پیز جاری کریں مذکورہ بالا مشاہدات کی روشنی میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کسی فرد کو پرائیویٹ سیکورٹی فرم سے دو پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ سے زائد رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور وہ بھی سیکرٹری داخلہ بلوچستان کی اجازت سے مشروط ہو 6. سیکریٹری خزانہ حکومت بلوچستان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ تمام پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ کو گرانٹ ان ایڈ سے تنخواہوں کی ادائیگی روک دے اور کابینہ سے منظوری کے بعد مذکورہ رقم عوامی بہبود کے کسی دوسرے شعبے کو منتقل کریں 7 عدالت عالیہ کے رجسٹرار کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس حکم نامے کی کاپیاں تمام متعلقہ افراد کو آگاہی اور ضروری کارروائی کے لئے بھجوائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں