غیر قانونی ٹرالنگ میں ملوث 30افراد کو ایک سال قید و تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا

کوئٹہ:جوڈیشل مجسٹریٹ پسنی کی عدالت نے غیرقانونی ٹرالنگ میں ملوث 30افراد کو ایک سال کی قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی،کیس ایک ماہ سے عدالت میں چل رہا تھا جرم ثابت ہونے پر 30افراد کو سزائیں دیں،غیرقانونی ٹرالنگ کے خلاف محکمہ فشریز کی جیت ہے،ہم 12ناٹیکل میل کے اندر کسی بھی ٹرالر کو نہیں چھوڈینگے انھیں پکڑھ کر عدالت سے سزائیں دلوائینگے،اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز پسنی بشیر احمد کاکڑ کی پریس کانفرنس میں اعلان تفصیلات کے مطابق غیرقانونی ٹرالنگ میں ملوث صوبہ سندھ کے دو ٹرالروں کے 30خلاصیوں کو جوڈیشل مجسٹریٹ پسنی کی عدالت نے ایک سال قید کی سزا سنا دی،ٹرالر المکہ رجسٹریشن نمبر24200اور النودیہ رجسٹریشن نمبر16922کو رواں ماہ 6اکتوبر کو محکمہ فشریز کی گشتی ٹیم جس کی سربراہی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز پسنی بشیر احمد کاکڑ کررہے تھے پسنی کے سمندری حدود 3ناٹیکل میل کے اندر غیرقانونی ٹرالنگ کرتے ہوئے پکڑھ لیا تھا اور ان کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کردیا گیا ایک ماہ تک کیس چلنے کے بعد آج جوڈیشل مجسٹریٹ پسنی کی عدالت نے ملزمان کو ایک سال قید کی سزا اور تین لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنادی،محکمہ فشریز کی جانب سے محمد ایوب نے کیس کی تفتیش کی جبکہ فشریز انسپکٹر شکیل احمد کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کیا گیا تھا محکمہ فشریز بلوچستان کی جانب سے حیدر بلوچ اور مبین بلوچ بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز پسنی بشیر احمد کاکڑ نے اپنے آفس میں صحافیوں کو بریفننگ دیتے ہوئے کہا کہ معزز عدالت سے ملزمان کو سزا ملنا محکمہ فشریز اور مقامی ماہی گیروں کی جیت ہے انہوں نے کہاکہ وزیرفشریز حاجی اکبر آسکانی سیکرٹری فشریز بابر خان،ڈی جی فشریز طارق الرحمان اور ڈائریکٹر فشریز احمدندیم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ فشریز پسنی کی گشتی ٹیم روزانہ سمندر میں گشت کررہی ہے جس کی وجہ سے ٹرالر مافیا پسنی کے سمندری سے نکل چکی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کی ٹیم بھی سمندر میں گشت کررہی ہے جس کی وجہ سے پسنی کا سمندری حدود غیرقانونی ٹرالروں سے صاف ہوچکا ہے انہوں نے کہاکہ پسنی کی فش کمپنیوں میں مچھلی بڑی تعداد میں لائی جارہی ہیں اور آج پانچ سال کے بعد پسنی کے مقامی ماہی گیر کانٹے کے زریعے مشکا مچھلی کا شکار کررہے ہیں جبکہ چندی مچھلی اور جھینگا بھی کافی مقدار میں شکار کیا جارہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ محکمہ فشریز پسنی نے سمندری حدود کو مقامی ماہی گیروں کے لیے روزگار کا زریعہ بنادی ہے اور غیرقانرنی ٹرالنگ میں ملوث ٹرالروِں کو اپنے سمندری حدود اے بھگانے پر مجبور کردیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کے سمندری حدود 12ناٹیکل میل کے اندر کسی کو بھی غیرقانونی ٹرالنگ کی اجازت نہیں دینگے اس کے لیے چاہیے ہمیں کیوں نہ کسی بڑی قربانی دینی پڑے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا سمندر یہاں کے مقامی ماہی گیروں کی ہے اس میں غیرقانونی ٹرالنگ کرنے والے ٹرالروِں کے خلاف کارائی اسی طرح ہوتی رہے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں