سی پیک سے پہلے گوادر پھر بلوچستان کو فائدہ ملنا چاہئے،ملک سکندر ایڈووکیٹ

کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر سے قائم مقام سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر حسین لانگو نے تحریک کا نوٹس دیتے ہوئے استدعا کی کہ قاعدہ225کے تحت مشترکہ قرار داد پیش کرنے کی بابت قاعدہ103(1)کے لوازمات کو معطل کیا جائے ایوان کی رائے سے قائم مقام سپیکر نے اختر حسین لانگو کو قرار داد پیش کرنے کی اجازت دی۔ قرار داد پیش کرتے ہوئے اخترحسین لانگو نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے وسائل جو ریکوڈک اور سیندک کے نام سے پہچانے جاتے ہیں یہ بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہیں اور ان کی غربت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے ذرائع ہیں شنید میں آیا ہے کہ ریکوڈک کے وسائل سے بلوچستان کے عوام کو محروم کرنے کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور بلوچستان کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے علم میں لائے بغیر بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جو بد ترین ظلم کے مترادف ہے لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ریکوڈک کے بارے میں حقائق سے متعلق اسمبلی میں ان کیمرا بریفنگ دی جائے مزید برآں اٹھارہویں ترمیم کے بعد ریکوڈک کے بارے میں وفاقی حکومت یا بین الاقوامی سطح پر کوئی بھی اقدام اور معاہدہ بلوچستان کے عوام کے بغیر قابل قبول نہیں ہے۔اپنی قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے اختر حسین لانگو نے کہا کہ اس حوالے سے گزشتہ روز اپوزیشن رہنماؤں نے پریس کانفرنس بھی کی جبکہ ماضی میں ریکوڈک اور سیندک سمیت بلوچستان کے معدنی وسائل کے حوالے سے متعدد قرار دادیں ایوان میں پیش اور منظور بھی ہوچکی ہیں کمیٹیاں بھی بنائی جاچکی ہیں ہمارے تحفظات صوبے کے تمام معدنی وسائل کے حوالے سے ہیں ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے شنید میں ہے کہ اس اجلاس میں ریکوڈک سے متعلق اہم فیصلہ اور دستخط ہونے جارہے ہیں وزیراعلیٰ سے توقع ہے کہ وہ ایسے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے جو بلوچستان کے وسائل کے حوالے سے ہوں اٹھارہویں ترمیم کے بعد وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وہ ایسے کسی بھی معاہدے سے قبل ایوان کو اعتماد میں لیں ایوان کو ان کیمرا بریفنگ دی جائے اور معاہدے کی تفصیلات سامنے لائی جائیں بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے فیصلے قابل قبول نہیں ہوں گے انہوں نے کہا کہ ایسے کسی معاہدے کو نہ تو بلوچستان کے عوام اور نہ ہی ان کے منتخب نمائندے تسلیم کریں گے اٹھارہویں ترمیم کے بعد معدنی وسائل پر صوبے کا اختیار ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ معدنی وسائل سے بلوچستان کو اس کا پورا حصہ دیا جائے اس سلسلے میں ایوان کی کمیٹی بنا کر وفاق سے بات کی جائے اور اس حوالے سے بھی ایوان کو ان کیمرا بریفنگ دی جائے۔ اپوزیشن لیڈر ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک اور سیندک منصوبے بلوچستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں بلوچستان کے عوام اور اس ایوان کو اعتماد میں لئے بغیر اگر اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کیا جارہا ہے تو وہ درست نہیں بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی معدنیات سے نوازا ہے یہ وسائل بلوچستان کی ترقی پر خرچ ہونے چاہئیں سی پیک سے پہلے گوادر پھر بلوچستان اور پھر پورے ملک کو فائدہ ملنا چاہئے اسی طرح ریکوڈک اور سیندک کے منصوبوں سے بلوچستان کے عوام خوشحال اور صوبہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکتا ہے اگر صوبے کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ کیا گیا تو وہ قابل قبول نہ ہوگا ایوان سے سیندک پر ایک کمیٹی بنائی گئی تھی اس کی رپورٹ بھی یہاں آنی چاہئے تھی انہوں نے زور دیا کہ ریکوڈک سمیت بلوچستان کی تمام معدنی وسائل پر بلوچستان کے عوام اور اس ایوان کو اعتماد میں لیا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں