دنیا بھر میں جمہوریت کمزور ہورہی ہے، نیٹو چیف
برسلز:نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں جمہوریت کمزور ہورہی ہے اور جمہوری اداروں پر لوگوں کا اعتماد بھی کمزور ہوتا جارہا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیٹویا کے شہر ریگا میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل ‘نیٹوز آوٹ لک ٹو ورڈز 2030 اینڈ بیانڈ ‘ نامی سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہاکہ نیٹو کو جمہوریت، آزادی اور قانون کی حکمرانی کے دفاع کیلئے بنایا گیا تھا، یہ اقدار اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ ہم کون ہیں اور یہ خود بخود حاصل نہیں ہوگئیں،نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آج یہ اقدار دباو میں ہیں، ہمارے اتحاد کے باہر اور ہماری قوموں کے اندر سے بھی، آج ہم ایک سسٹمیٹک مقابلے کے دور میں جی رہے ہیں،انہوں نیکہا کہ طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور جمہوریت اور آزادی شدید دباو میں ہے، آمرانہ حکومتیں بین الاقوامی آرڈر کو پیچھے دھکیل رہی ہیں، وہ گورننس کے متبادل ماڈلز کو فروغ دے رہی ہیں، وہ ہمارے معاشروں کو کمزور کرنے کیلئے پروپیگنڈے، غلط معلومات اور بدنیتی پر مبنی سائبر ٹولز کا استعمال کرتے ہیں،جینز اسٹولٹنبرگ نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنے ملکوں میں ایسے انتہا پسند اور سیاسی گروہ موجود ہیں جو ہماری جمہوری اقدار کا احترام نہیں کرتے، اس لیے اس وقت اس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ ہم دکھائیں کہ ہمارا جمہوری ماڈل مضبوط ہے، ہم اپنے گھر اور باہر دونوں جگہ اپنی اقدار کا تحفظ کریں، سیکرٹری جنرل نیٹو نے کہا کہ کہ اس کے ساتھ ہی اس بات کی ضرورت بھی ہے کہ ہم اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کریں، یورپ میں ہمیں گرم رکھنے اور توانائی کے بحران سے بچنے کیلئے گیس جبکہ اپنے اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر استعمال کرنے کیلئے چین سے رئیر ارتھ کی ضرورت ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ اپنے معاشروں کو مضبوط بنانے کیلئے ہمارے لوگوں اور اداروں کو بہتر طریقے سے مزاحمت کرنے اور حملوں کو پیچھے دھکیلنے کے قابل ہونا چاہیے، ہماری سپلائی چین زیادہ متنوع اور محفوظ ہو جبکہ ہمارا بنیادی ڈھانچہ زیادہ لچکدار ہونا چاہیے۔


