صوبے میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کیلئے ماہرین سے مشاورت جاری ہے، نصیب اللہ مری
سبی: صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیئے ماہر ین تعلیم سے مشاورت جاری ہے اس سلسلے میں جلد ایک اعلیٰ سطح کی ماہرین تعلیم کی کا نفرنس طلب کر کے صوبے میں معیار تعلیم کو بہتر بنائیں گے تاکہ بلوچستان بھی تعلیمی میدان میں دوسرے صوبوں کے برابر آسکے میر نصیب اللہ مری نے کہاکہ جب میرے پاس جام دور میں صحت کی وزارت تھی ہم نے تجربے کے طور پر صوبے بھر میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر ڈاکٹرز بھرتی کر کے انہیں خالی اسامیوں پر تعینات کیاتھا جبکہ دیہی علاقوں میں جانے والے ڈاکٹرز کے لیے شہری علاقوں کی نسبت اچھا پیکج دیاتھا اور ہمارا یہ تجربہ کامیاب رہا اب ہم یہی سلسلہ محکمہ تعلیم میں بھی شروع کررہے ہیں اس سلسلے میں بہت جلد کنٹریکٹ بیس پر ماہرین تعلیم کو بھرتی کر کے صوبے میں مختلف اساتذہ اور سکولوں کی خالی انتظامی پوسٹوں پر تعینات کیاجا ئے گاان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول سبی میں قومی خبر رساں ادارے آئی این پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلو چستان نے صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیئے ہمیں جو ٹاسک دیا ہے انشاء اللہ ہم اپنے اس دور میں تعلیمی اداروں میں بہتر سے بہتر تبدیلی لائیں گے میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ ریٹائرڈ اساتذہ میں بھی اچھی شہرت کے حامل اساتذہ کی بھی خدمات حاصل کی جائیں گی اور انکے تجربات سے صوبے کے معیار تعلیم کو بہتر سے بہتر بنائیں گے میر نصیب اللہ مری نے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ بلو چستان کا ہر بچہ سکول میں داخل ہو تاکہ محکمہ تعلیم کا یہ نعرہ پورا ہوسکے پڑھے کا بلوچستان تو بڑھے گا بلوچستان انھوں نے کہا کہ سبی میرا دوسرا گھر ہے اس لیئے سب سے پہلا دورہ میں سبی کا کررہاہوں آج مجھے میرا بچپن یاد آرہا ہے انھوں نے میڈیا کی نشاندہی پر دیہی علاقوں میں جانے والی اساتذہ کے لیئے فوری طور پر ایک بس دینے کاعلان کیا انھوں نے کہا کہ جب ہم اساتذہ کو سہولیات فراہم کریں گے تو وہ دل جمعی سے بچوں کوپڑھائیں گے جن گرلز سکولوں کی چار دیواری،واش روم اور دیگر مسائل ہیں انہیں فوری طور پر حل کروں گا انھوں نے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج سبی کے میڈیا نے تعلیم کے حوالے سے بہت سی باتوں کی نشاندہی کی ہے جوکہ توجہ طلب ہے انھوں نے کہا کہ سبی میں ڈی ای او او فیمیل کو فوری طور پر تعینات کیا جائے گا تاکہ خواتین اساتذہ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں اس کے علاوہ جن سکولوں میں پرنسپل اور سینئر اساتذہ نہیں ہیں وہاں پر بھی سینئر اساتذہ کو تعینات کیا جائے گا۔


