ایم پی اے خاران شیشے کی دکان میں بیٹھ کر پتھر نہ ماریں، عبدالکریم نوشیروانی

کوئٹہ :بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے خاران میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور بی اینڈ آر کے اپ لوڈ ٹینڈرز کو ایم پی اے خاران کی جانب سے روکنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم پی اے خاران شیشے کی دکان میں بیٹھ کر پتھر نہ ماریں اگر ہم نے پنڈورا بکس کھول دیا تو وہ نہ ایم پی اے رہیں گے اور نہ ہی خود سیدھے اندر جیل کی سلاخوں میں جائیں گے مہربانی کریں اپنی اس بلیک میلنگ سے باز رہیں خاران کے عوام کو ان کی تمام حرکات کا بخوبی علم ہے وہ خود بھی ان کا احتساب کریں گے۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کرنے والے خاران کے ایک نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا کہ سابق وزیراعلی جام کمال نے اپنے دورہ خاران کے دوران واٹر سپلائی اسکیمات اور روڈ سیکٹر کے علاوہ 40چھوٹے ٹرانسفارمرز کے لئے 40کروڑ روپے کا فنڈ دیا تھا جس کے باقاعدہ ٹینڈرز ہوچکے ہیں بلکہ یہ ٹینڈرز اپ لوڈ بھی ہوگئے ہیں، ایم پی اے خاران وزیراعلی قدوس بزنجو سے ایک لیٹر ایشو کرکے ان ٹینڈرز کو روکنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں جسکا قانونی طور پر بھی کوئی جواز نہیں وہ پی ایچ ای اور بی اینڈ آر کے متعلقہ ایکسیئن کو تبدیل کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میلنگ کررہے ہیں ہم انہیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کی اس بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا تو عدالت کا راستہ ہمارے لئے کھلا ہے وہاں سے انصاف لیں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ساڑھے تین سال کے دوران ایم پی اے خاران نے جو کچھ کیا وہ خاران کے عوام سمیت سب کے علم میں ہے وہ دودھ کے دھلے نہیں لہذا شیشے کے مکان میں بیٹھ کر دوسرے کے مکان پر پتھر نہ ماریں اگر ہم نے پنڈورا بکس کھول دیا تو نہ وہ ایم پی اے رہیں گے نہ وہ خود سیدھے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے اپ لوڈ ٹینڈرز کو روکنے کے لئے وزیراعلی سے جو لیٹر ایشو کروایا ہے اسکی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیونکہ رخشان ڈویژن کے یہ ٹینڈرز پی ایچ ای اور بی اینڈ آر کے تمام متعلقہ آفیسران کی موجودگی میں پہلے ہوچکے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایم پی اے خاران اپنی بلیک میلنگ سے باز آئیں نہ وہ وزیراعلی بلوچستان اور نہ ہی متعلقہ آفیسران کو بلیک میل کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں