گوادر یونیورسٹی کے طلباء کی جبری گمشدگی تشویشناک ہے،لاپتہ طالبعلموں کو بازیاب کیا جائے،بی ایس او
گوادر:بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گوادر زون کے ترجمان نے جاری کرده بیان میں کہا ہیکہ گوادر یونیورسٹی ہاسٹل میں رہائش پزیر طالبعلم رمیز بلوچ جبکہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے طالبعلم جمیل بلوچ اور انکے ساتھی محبوب بلوچ کو 2 دسمبر سے لاپتہ کردیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ طلباء کی جبری گمشدگی تشویشناک اور قابل مذمت ہے ۔ اس طرح کے واقعات سے تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم نوجوان زہنی خوف میں مبتلاء ہوجاتے ہیں۔بلوچستان میں طلباء کی گمشدگی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ گزشتہ ماہ جامعہ بلوچستان سے دو طالبعلموں کی گمشدگی پر طلباء کی جانب سے احتجاجی دھرنا سمیت بلوچستان بھر میں تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ بھی رہا لیکن طلباء کی بازیابی کے بجائے اب نومولد گودر یونیورسٹی کے طلباء کو لاپتہ کردیا گیا ہے
ترجمان گوادر زون نے کہا ہے کہ بین القوامی اور ملکی آئین کے مطابق جبری طور پر گمشدگی آئین شکنی کے زمرے میں آتا ہے لیکن بلوچستان میں دیگر طبقات کے ساتھ لکھے پڑھے نوجوانوں کا ماورائے قانون لاپتہ ہوجانا سوالیہ نشان ہے۔
ترجمان نے جامعہ انتظامیہ کی جانب سے منعقدہ اسپورٹس فیسٹیول کو افسوسناک امر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے طالبعلم لاپتہ ہیں جبکہ جامعہ انتظامیہ اسپورٹس فیسٹول اور فن فئیر منانے میں مصروف ہے جس سے انتظامیہ کی طلباء سے متعلق بے حسی ظاہر ہوتی ہے۔
ترجمان نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گوادر یونیورسٹی کے لاپتہ طالبعلموں کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے طلباء کی عدم بازیابی پر جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے پرامن احتجاج کی راہ اپنایا جائے گا۔


