عوام کی ترقی اور خوشحالی سب سے اہم ہے،زمرک اچکزئی
کوئٹہ:بلوچستان میں 20 سے 24 سال کی عمر کی 21.6 فیصد خواتین کی شادی 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی کردی جاتی ہے کم عمری کی شادی کی یہ شرح مکران ڈویژن میں 23 فیصد کے تناسب کے ساتھ سب سے زیادہ ہے پاپولیشن کونسل، یو این ایف پی اے اور محکمہ سماجی بہبود بلوچستان کے اشتراک سے اس رپورٹ کی تقریب رونمائی جمعرات کے روز یہاں مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی تقریب کے مہمان خاص صوبائی وزیر خوراک انجینئر زمرک خان اچکزئی تھے اس موقع پر پاپولیشن کونسل نے بلوچستان میں کم عمری کی شادی پر سیاسی معاشی تجزیہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صوبے میں 20 سے 24 سال کی عمر کی 21.6 فیصد خواتین کی شادی ان کی 18 ویں سالگرہ تک پہنچنے سے قبل ہی کر دی جاتی ہے جبکہ تقریباً 6 فیصد کی شادی 15 سال کی عمر سے بھی پہلے کر دی جاتی ہے مکران میں یہ شرح 23 فیصد کے تناسب سے پہلے نمبر پر ہے اس کے بعد کم عمری کی شادی کی یہ شرح نصیر آباد میں 22.4 فیصد اور سبی ڈویژن 22 فیصد ہے کوئٹہ ڈویژن میں 15 سال سے کم اور 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کی شرح بالترتیب 2.6 فیصد اور 11 فیصد ہے پاپولیشن کونسل کی رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ لڑکیوں کی شادی کا تناسب غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں میں زیادہ ہے جو 22.4 فیصد تک ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اعلی تعلیم کے حصول سے کم عمری کی شادی کی یہ شرح کم ہو جاتی ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ عوام کی ترقی اور خوشحالی سب سے اہم ہے اور یہ موجودہ صوبائی حکومت کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لئے اتفاق رائے س موثر قانون سازی کی ضرورت ہے پاپولیشن کونسل کی یہ تاریخی رپورٹ جو کم عمری کی شادی کی سیاسی معیشت کا تجزیہ کرتی ہے نہ صرف صوبے میں اس رواج کو روکنے کے لیے جامع قانون سازی میں حصہ ڈالے گی بلکہ اس اہم مسئلے پر مزید تحقیق، وکالت اور پالیسی میں تبدیلی کے لیے غیر معمولی کردار ادا کرے گی صوبائی وزیر خوراک انجینئر زمرک خان اچکزئی نے قانون سازوں سیاسی جماعتوں سول سوسائٹی اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ اجتماعی طور پر لڑکیوں کی تعلیم اور سماجی و اقتصادی شمولیت کے لیے مزید سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے کام کریں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ سماجی بہبود کی ایڈیشنل سیکرٹری مرزیہ حسنین نے کہا کہ پاپولیشن کونسل کی اس رپورٹ میں بچیوں کی شادیوں کو روکنے کے لیے کلیدی سفارشات پیش کی گئی ہیں جن میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی میں اضافہ، خواتین کو روزگار میں سہولت کی فراہمی اور سماجی و اقتصادی سرگرمیوں میں شرکت اور شعور بیدار کرنا شامل ہیں انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ محکمہ سماجی بہبود کی طرف سے تیار کردہ ارلی چائلڈ میرج ایکٹ بلوچستان کابینہ کو پیش کر دیا گیا ہے تقریب کے آغاز میں پالیسی تجزیہ کار اور رپورٹ کی مرکزی مصنفہ سارہ زمان نے بلوچستان میں کم عمری کی شادی کو روکنے کے لیے اہم نتائج اور سفارشات پیش کیں اور دلائل دئیے کہ کس طرح بچپن کی شادی متعدد شعبوں میں صنفی عدم مساوات کو برقرار رکھتی ہے اور لڑکیوں اور خواتین کو معاشرے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے سے روک کر عمومی طور پر معاشی اور سماجی ترقی کو سست کر دیتی ہے سارہ زمان کی جانب سے پیش کردہ اہم سفارشات میں اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا ہے کہ وہ لڑکیوں کی شادی کی عمر 16 سے بڑھا کر 18 سال کرنے کے لیے فوری قانون سازی میں اپنا کردار ادا کریں اس مقصد کے لئے والدین اور عوامی نمائندوں کے ذریعے عوامی شعور بیدار کیا جائے اور اس عمل میں مذہبی اسکالرز کو بھی شامل کیا جائے انہوں نے کہا کہ مقاصد کے حصول کے لئے ادارہ جاتی مضبوطی میں زیادہ زیادہ سرمایہ کاری معاون ثابت ہو سکتی ہے۔


