کوہلو، ہسپتال میں لیڈ ی ڈاکٹرز کی عدم تعیناتی، غریب عوام اتائی دائیوں کے رحم و کرم پر
کوہلو:ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہلو میں لیڈی میڈیکل ڈاکٹرز کی غیرتعیناتی اور زچہ و بچہ کیسز میں غریب اتائی دائیوں کے ہاتھوں لٹنے لگے ہیں تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہلو میں لیڈی میڈیکل آفیسرز کی عدم تعیناتی سے خواتین مریضوں کی مشکلات میں اضافہ،زچہ و بچہ کے کیسز میں علاج و معالجے کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث اتائی ڈاکٹروں کے ہاتھوں غریب دونوں ہاتھوں سے لٹ رہے ہیں عوامی حلقوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں میڈیکل تعیناتی کو یقینی بنانے اور خالی آسامیوں پر فوری تقرریوں کا مطالبہ کیا ہے رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہلو میں لیڈی میڈیکل آفیسرز نہ ہونے سے عوامی مشکلات میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے، شہری حکومت کے اعلانات کے ثمرات اور صحت کے سہولیات کی فراہمی کے دعووں سے نالاں نظر آتے ہیں دولاکھ چودہ ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل ضلع میں زچہ و بچہ کے سنٹر نہ ہونے اور لیڈی میڈیکل آفیسرز کی عدم تعیناتی سے خواتین کے علاج و معالجے میں شدید دشواری پیش آرہی ہے دوسری جانب اتائی لیڈی ڈاکٹروں کی بھرمار سے غریب اور دیہاتی لوگ دونوں ہاتھوں سے لٹ رہے ہیں رواں سال ایک درجن کے قریب زچہ و بچہ کیسز میں ماں اور بچے کی موت واقع ہوئی ہے دوردراز اور دیہی علاقوں سے طویل مسافت طے کرکے ضلعی ہیڈکوارٹر پہنچنے والے مریض صحت کی سہولیات دستیاب نہ ہونے کے باعث جہاں شدید مشکلات و مسائل سے دوچار ہیں وہی پر اضافی مالی اخراجات کے باعث در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ضلع میں جہاں صحت کی دیگر سہولیات کا فقدان ہے وہی پر لیڈی میڈیکل آفیسرز کی عدم تعیناتی اور تقرریوں سے مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے عوامی حلقوں نے وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ کیو کوہلو میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں میڈیکل آفیسرز کی تعیناتی اور خالی آسامیوں پر فوری تقرریوں کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو دہلیز پر صحت کی بہتر سہولتیں میسر آسکیں۔


