اسلام آباد، تعلیمی ادارے 10 جنوری کے بعد بھی بند رہنے کا خدشہ

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں پر ایک مرتبہ پھر بندش کے سیاہ بادل منڈلانے لگے کیونکہ سرکاری اساتذہ نے بلدیاتی اداروں کے ماتحت کیے جانے کیخلاف 10جنوری سے کلاسز کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی جب کہ نجی اسکولوں نے بھی کنٹونمنٹ بدری کے معاملے پر احتجاج کا اعلان کر دیا۔نئے سال میں 9 جنوری تک سرکاری تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی جس کے بعد 10 جنوری سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے تدریسی عمل کے بائیکاٹ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ میونسپل کارپوریشن کی ماتحتی ہرگز قبول نہیں کریں گے۔چئیرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی فضل مولی نے کہا کہ 10 دن کا وقت حکومت کو پھر سے دیا جا رہا ہے تاکہ سردیوں کی چھٹیوں میں اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لیں لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ہم بڑے اقدام کی طرف جائیں گے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد کے تعلیمی ادارے میونسپل کارپوریشن کے ماتحت کرنے پر اساتذہ نے احتجاج کیا تھا۔وفاقی تعلیمی اداروں کے اساتذہ نے 23 دسمبر کو ایک بار پھر احتجاج شروع کرتے ہوئے کہا کہ تاحال ان کے مطالبات منظور نہیں کیے گئے۔ آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد کے تعلیمی ادارے میونسپل کارپوریشن کے ماتحت کرنے کے خلاف اساتذہ کلاسز کا بائیکاٹ کرکے نیشنل پریس کلب کے باہر جمع ہوئے۔ جس کے بعد اساتذہ کی بہت بڑی تعداد ڈی چوک بھی پہنچ گئی۔ انہوں نے سڑک کو ٹریفک کے لئے بند کردیا۔ اس موقع پر اساتذہ نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔ مظاہرین بیرئر اور خاردار تاریں ہٹاکر پارلیمنٹ ہاس کے باہر بھی پہنچ گئے۔ مظاہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری کو طلب کیا گیا۔ جس کے بعد اسلام آباد میں ڈی چوک میں ماحول کشیدہ ہو گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں