مہنگائی بجٹ کو کھلی طور پر مسترد کر تے ہیں، پشتونخوا میپ
کوئٹہ:پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی پریس ریلیز میں گزشتہ روز قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرنے کو نااہل ناکام سلیکٹڈ مسلط حکومت کی عوام پر خوفناک مہنگائی مسلط کرنے کی سازش کو منی بجٹ کہنا ملک کے ساتھ سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے اسکی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے مہنگائی بجٹ کا نام دیکر کھلی طور پر مسترد کیاگیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے حوالے سے جو قانون سازی ہورہی ہے اُس کا واضح مقصد اسٹیٹ بینک کے اختیارات آئی ایم ایف کے حوالے کرنا ہے نئے قوانین کے تحت ملک میں قائم کسی بھی حکومت کو ملکی ضروریات کیلئے آئی ایم ایف کے سربراہ کی اجازت کے بغیر ایک روپیہ نکالنے کا بھی مجاز نہیں اور وزیر خزانہ کا اعلان کردہ بورڈ سٹیٹ بنک کے گورنر کو بھی یہ اختیارحاصل نہیں کہ وہ ایک روپیہ تک نکال سکیں ایسی صورتحال میں تمام ملک اس کے 22کروڑ عوام اور ان کی نمائندہ سیاسی پارٹیاں اور جمہوری قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے عوام کو آگاہی دیں اور اسی طرح ملک میں قانون سازی کی صورتحال ہر معاملے ابتر سے ابتر ہے اور حکومت کے اتحادی بربادی کے قانون سازی میں شریک ہیں اور عوام ان سے باز پرس کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پبلک سیکٹر کو تباہ کرنے اور تما م پیداواری عمل فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کرنے کے سبب حکومت کا پیداورای عمل سست روی کا مسلسل شکار ہوتا چلا آیا ہے،زرعی پیداوار میں مسلسل کمی، صنعتی پیداوار میں جمود، قومی سرمایہ داروں میں خوف اور بیرونی سرمایہ کار بے تحاشا ٹیکسوں کے علاوہ حکومتی کرپشن اور عدم تحفظ سے مکمل رُک گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلط نااہل ناکام ٹولے کو حکومت حوالے کرنے پر پارٹی نے بربادی کی نشاندہی کی تھی جواب درست ثابت ہورہی ہے ملک میں جاری غلط داخلہ پالیسی اور اس کے نتیجے میں ناکام خارجی تعلقات سے ملک عالمی طور پر تنہائی سے دوچار ہے اور داخلی طور پر مسلط حکومت کے ذریعے جمہوریت، پارلیمنٹ کو بے وقعت بنانے، جمہور کی حکمرانی تسلیم نہ کرنے کے سبب معاشرتی انتشار ہے۔ ملک کی آئین پر اس کے روح کے مطابق عملدرآمد نہیں آئین کے تحت تشکیل کردہ ادارے اور ان کے اختیارات کی پائمالی سے جمود طاری ہے۔ سویلین انتظامیہ کو بے دست پا کردیا گیا ہے حکومتی وزراء گالم گلوچ اور طفل تسلیوں سے عوام کی آواز دبانے اور انہیں دھوکہ دینے کے بیکار مشغلے میں مصروف ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، جمہورکی حکمرانی، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی فیڈریشن، عوام کی منتخب پارلیمنٹ سے ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کی تشکیل نہیں کی جاتی اُس وقت تک ملک بحرانوں سے دوچار ہوتا رہیگا جس کی تمام تر ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوگی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مہنگائی کے ہاتھوں لاچار عوام جو پہلے سے نان شبنیہ کے محتاج بن چکے تھے اور ان کی قوت خرید پہلے سے جواب دے چکی تھی ایک مرتبہ پھر مہنگائی بجٹ کے نام پر مزید بدحال کرنے کی روش ناقابل برداشت ہوگئی ہے ملک کی جاری صورتحال میں کنٹینر زپر بلند بانگ دعوے کرنیوالوں کو اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے گھر جانا چاہیے اور 22کروڑ عوام کی ملکی اقتدار کی امانت عوام کو واپس کرنا چاہیے تاکہ ملک میں نئے سرے صاف شفاف غیر جانبدارانہ او راسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بغیر انتخابات کرائے جاسکیں اور ملک کو مزید تجربہ گاہ بنانا سنگین ترین بربادی کے مترادف ہوگی۔


