بلوچستان میں 80فیصد ادارو ں میں محکمہ لیبر سفید ہاتھی بن چکا ہے، لیبر فیڈریشن
کوئٹہ:بلوچستان میں لیبر قوانین کی بروقت تکمیل نہ ہونے سے صوبے کا محنت کش طبقہ اور ملازمین اور مزدور بنیادی انسانی حقوق تنخواہوں پنشن مراعات اور دیگر سہولتوں سے محروم ہیں بلوچستان میں محکمہ لیبر سفید ہاتھی بن چکا ہے صوبے کے 80 فیصد اداروں میں لیبر قوانین پر عمل نہیں ہورہا۔بلوچستان میں لیبر لاز معطل ہیں اسکے برعکس سندھ پنجاب خیبر پختونخواکی حکومتوں اور لیبر ڈیپارٹمنٹ نے اپنے لیبرقوانین مکمل کرکے اپنے صوبوں کے مزدوروں و ملازمین کو سہولیات دی ہیں وفاق سمیت تمام صوبوں میں مزدوروں کے ورثاکو ملنے والی کمپنسیشن 5 لاکھ روپے ہے اور بلوچستان میں ابھی تک ڈھائی لاکھ روپے دی جاتی ہے ان خیالات کا اظہار بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر مزدور رہنماخان زمان نے مختلف یونینز کے عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اہم نوعیت کے لیبر قوانین پر پیش رفت اور قانون سازی کی بجائے محکمہ لیبر بلوچستان کے اعلی حکام اپنے ٹی اے ڈی اے کی خاطر اب بھی غیر متعلقہ فورمز پر لیبر قوانین اور انکے رولز پر غیر متعلقہ افراد سے بحث کرارہے ہیں۔جبکہ بلوچستان میں لیبر قوانین پر مشاورت انکی تیاری اور رولزبنانے اور ان پر بحث کیلئے بڑی مزدور فیڈریشنوں کے نمائندے پی ٹی سی سی کے ممبر ہیں۔ ہر دور میں بلوچستان ہی لیبر قوانین مکمل کرنے اور اداروں فیکٹریز و صنعتوں میں اس پر عمدرآمد کرانے میں پیچھے کیوں؟، کیا بلوچستان کے محکموں و صنعتوں میں کام کرنے والے ملازمین و مزدوروں کو جان بوجھ کر انجمن سازی کے حق اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہاہے، سندھ پنجاب خیبر پختونوا سمیت وفاق کے اداروں میں ٹریڈیونین انجمن سازی کی مکمل آزادی ہے صرف بلوچستان کوہی اس حق سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان بلوچستان میں اس نا انصافی کیخلاف دائر آئینی پٹیشن پر فوری احکامات صادر کرے اور بلوچستان میں ایک عرصہ سے محکمہ لیبر میں بڑی پوسٹوں پر نا اہل لوگ براجمان ہیں اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور سوات میں بلوچستان کے فنڈز سے غیر متعلقہ افراد میں بانٹے گئے چیکس کی تحقیقات کرائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آج تک جتنے بھی صوبائی وزیر محنت آئے جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کو تحفظ دیا اور بلوچستان میں محکمہ لیبر کے دفاتر میں اپنے من پسند افراد تعینات کرائے جس سے ان اداروں میں محنت کشوں، معذوروں اور اقلیتوں کے کوٹے اور میرٹ کو پامال کرکے بھرتیاں کیں جس کی مثالیں موجود ہیں حال میں میں محکمہ محنت میں براہ راست بھرتیوں کی تحقیقات کرائی گئیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لیبر قوانین کی تیاری میں اسلام آباد میں بیٹھے افراد سے مشاورت سمجھ سے بالا تر ہے اس وجہ سے بلوچستان کے انڈسٹریل زونز تنزلی اور تباہی سے دوچار ہورہے ہیں اور صوبے میں روز بروز اس حوالے سے صورتحال گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے وزیراعلی بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر محکمہ لیبر بلوچستان میں بے ضابطگیوں اور محکمہ لیبر کے فورمز کے غلط استعمال کا نوٹس لیا جائے بصورت دیگر بلوچستان لیبر فیڈریشن کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں آواز بلند کرکے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مزدوروں و ملازمین کی حق تلفی کیخلاف احتجاج و مظاہرے منعقد کرے گی۔


