سرد جنگ کے خاتمے کی قیمت اور کالی دولت کے المیے:
تحریر: صدیق کھیتران
گزشتہ سے پیوستہ
۔ ابھی حال ہی میں سابق چیرمین ایف بی آر سید شبر زیدی نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت پاکستان مالی لحاظ سے ڈیفالٹ کر چکا ہے۔ اقتصادی نقطہ نگاہ سے یہ ایک ایسی کیفیت ہوتی ہے جب کوئی ملک معاشی اعتبار سے اپنی آمدنی سے قرضوں کی اقساط اداکرنے کی سکت کھو دیتا ہے۔ اس وقت ملک لوکل کرنسی ڈالر کے مقابلے میں اپنے روپے کی طاقت کو 179 تک گرا چکا ہے۔سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کیش بطور قرض دیا ہے جس کو خرچ نہیں کیا جاسکتا اور اس کو 120 ملین ڈالر سود سمیت کسی بھی وقت 72 گھنٹے کے نوٹس پر واپس کرنا ہو گا۔ادھر چین کے پچھلے سال کا 4.5 ارب ڈالر کا قرض سود سمیت واپس کرنا باقی ہے جوکہ سعودی عرب کے پہلے سال والے قرض کی ادائیگی میں صرف ہوچکا ہے۔ملکی قرضے 50.5 ہزار ارب تک جاپہنچے ہیں جس میں سے 20 ہزار ارب موجودہ دور میں بڑھے ہیں۔
ایسے میں عالمی معیشت دان حیران ہیں کہ ملک ایک طرف ڈیفالٹ کرچکا ہیاقتصادیت کے تمام اشاریئے ماسوائے ترسیل زر Foreign remittances منفی گروتھ دکھا رہے ہیں۔ترسیل زر کی نمو پچھلے سال کے مقابلے میں 26.9 فی صد بڑھ گئی ہے۔کرونا کی وبا کے باعث سعودی عرب نے ایک سال سے اپنی سرحدیں غیر ملکیوں کیلئے بند رکھیں جہاں پر پاکستان کے سب سے زیادہ محنت کش جاتے ہیں۔خود سعودی عرب میں ان پاکستانی محنت کشوں کی تعداد 625876 سے گھٹ کر 223156 رہ گئی تھی۔وزیرخارجہ شاہ محمود نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 4 لاکھ محنت کش مزدور واپس سعودی پابندیوں کی وجہ سے نہیں جا سکے۔اور پاکستان میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے راستے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس سے ملتا جلتا منظر نامہ شمالی امریکہ کے ملک میکسیکو کا ہے۔جس کی سرحدیں امریکہ کی چار ریاستوں ٹیکساس، کیلیفورنیا، نیو میکسیکو اور ایروزینا (1848 تک یہ ریاستیں میکسیکو کا حصہ ہوا کرتی تھیں) میکسیکو کی ایک طرف15 سو مربع میل طویل سرحد امریکہ کی ان ریاستو ں سے ملتی ہے جب کہ دوسری سمت 2 ہزار مربع میل کا صحرا ہے۔چنانچہ میکسیکو سٹی کی گنجان ابادی دوکروڑ نفوس پر مشتمل ہے جہاں پر دنیا کا دوسرا بڑا منشیات کا مافیا رہتا ہے۔ان کے ہاں بھی قانوں کی حکمرانی غیب ہے جب کہ معیشت پر ڈرگ مافیاکا گہرا اثر ہے۔اتفاق سے کے ہاں بھی آمدنی کا دوسرا بڑا زریعہ ترسیل زر (foreign remittances) ہے ان کی منشیات اور ورک فورس کا دارومدار امریکہ پر ہی ہے۔اس سال ان کی بھی زرمبادلہ کی آمدنی ریکارڈ حد یعنی 30 فی صد تک بڑھی ہے۔اس کالی دولت نے پوری دنیا میں مگر خاص کر ان تین ممالک میں سماجی و انتظامی ڈھانچے کو یکساں طور پر متاثر کیا ہوا ہے۔ ممتازجیو پولیٹیکل پروفیسر رابرڈ ڈی کپلان اپنی تصنیف
"The Revenged of Geography "
میں رقم کرتا ہے کہ سویت یونین کی تحلیل کے بعد پاکستان اور افغانستان دونوں مرحلہ وار اپنا وجود کھوتے جائینگے۔اور تاریخ واپس اپنی اصل حالت یعنی (Re-aliengment) پر آئے گی۔شاید یہی وجہ ہے کہ 23 ارب روپے سے بنی سرحدی باڑ کو طالبان فورسز بدنام زمانہ ڈیورنڈ لائن کو ناقابل قبول سرحدی تنازعہ کہہ کر اکھاڑ رہے ہیں۔اسرائیل کے مشہور ناول نگار مسٹر ہلپرین (Helprin)،امریکی تھنک ٹینک کے مسٹر میراشمر (Merashimer) اور مسٹر پلر
(Pillar)
امریکی دفاعی تجزیہ نگار، امریکہ کو 2007 اور 2009 سے متواتر مشورہ دیتے آ رہے تھے کہ امریکہ اس خطے میں بے مقصد اپنے وسائل خرچ کر رہا ہے۔ جبکہ چین آے روز اپنی دفاعی اور اقتصادی طاقت کو بڑھا رہا ہے۔امریکہ اگر پاکستان اور افغانستان میں استحکام لانے میں کامیاب ہوبھی جاتا ہے تو اس کا فائدہ براہ راست چین اٹھائے گا۔وہ ان سڑکوں اور ریاستی ڈھانچے پر اپنی تیل اور انرجی کی پائپ لائینیں بچھائیگا۔اوراپنا مال گزارے گا۔اپنی دفاعی صلاحیت کے ساتھ افغانستان اور بلوچستان کی معدنیات اور سمندری وسائل پر تصرف جمائے گا۔لہزا اس جنگ زدہ بدامن ماحول کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جائے۔ چنانچہ امریکہ نے بالاخر اس مشورے پر عمل کیا اورہمارے ہزار ترلے کرنے کے باوجود وہ اس تنازعے سے نکل گیا ہے۔ جبکہ سعودی عرب واپس روشن خیالی کی طرف لوٹ گیا ہے انھوں نے پاکستان اور افغانستان کو دہشتگردوں کا گڑھ بنا دیاہے اور خود اصل زندگی کی طرف لوٹ گئے ہیں اب کوئی مزہبی پیشوا فتوی جاری کرنے کی جرات بھی نہیں کرتا ہیجبکہ ایک لاکھ پاکستانی اور چالیس لاکھ افغانوں کی روحیں فضاوں میں اپنے قاتلوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔
مغرب کے لوگ سیانے ہیں وہ اپنے مفادات کے تحفظ کا سب سے پہلے سوچتے ہیں۔اس لیے منشیات اور دہشت گردی سے جڑی مالی اعانت کو روکنے کیلئے فیٹف FATF کے پلیٹ فارم کو دونوں ممالک کے خلاف ایک موثر ہتھیار کے طور پرتیارکرکے رکھ دیا ہے۔ کیونکہ فیٹف FATF کو شک ہے کہ Foreign Remitances کی آڑ میں دراصل منشیات اور انتہاپسندی کے نیٹ ورک کی خاطر منی کو لانڈر کیا جاتا ہے۔اس وقت ان تینوں ممالک میں منشیات اور انسانی اسمگلنگ کا کاروبار عروج پرہے۔
یہ کہ سرد جنگ کو ختم ہوئے تیس سال ہوگئے ہیں مگر اس کے بھنورسے خون آلودہ جنگیں خاص کر دونوں ملکوں کی نسلیں تباہ کرتی رہینگی۔ معیشت تباہ ہوتی رہے گی اور سب سے بڑھ کر نوجوان نسل منشیات کا زہر اپنی زندگی میں گھولتی رہے گی۔یہ نہیں ہے کہ ریاست کو اس ڈرگز مافیاز کا ادراک نہیں ہے۔حقیقت میں اس مقصد کیلئے اینٹی نارکوٹکس کا ادارہ اور علیحدہ عدالتی نظام بھی موجود ہے۔جن کا نظم و نسق فوج کے حاضر سروس اسٹاف اور افسران سنبھالتے ہیں۔مگر مصیبت یہ آن پڑی ہے کہ ملک کا ہر ادارہ ایک مخصوص بیانیئے اور گروہی ترجیجات کیمطابق کام کرتا ہے۔ابھی پچھلے ہی سال قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ایک ممبر رانا ثنااللہ کوہیروئن اسمگلنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کیاگیا۔کچھ عرصہ جیل میں رکھنے اور مطلوبہ مقاصد کے حصول کے بعدخاموشی کردی گء۔حالانکہ منشیات کے مقدموں میں سزائیں سخت ہوتی ہیں جن میں ضمانتوں کی گنجائش بھی نہیں ہوتی۔
راہنما وہ ہوتا ہے جو ہیمشہ دیوار کے اس طرف دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔اسی لئیے خان عبدالولی خان نے لیاقت باغ پنڈی کے ایک جلسے میں جنرل ضیا کو مخاطب ہوکر کہاتھا کہ ہم دونوں نے اپنا زیادہ ماضی گزارلیا ہے اب بہت تھوڑا مستقبل باقی ہے۔مگر جن انگاروں کو تم دہقا رہے ہو ان کے الاو سے کئی نسلیں جلتی رہینگی۔
دراصل ہمارا المیہ یہ بھی تو ہے کہ ہم تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ (ختم)


