بلوچستان اسمبلی میں پی آئی اے کی اندرون ملک پروازوں کے کرایوں می کمی کی قرار داد منظور
کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز(پی آئی اے)کی اندرون ملک پروازوں کی کرایوں میں کمی سے متعلق قراردادمتفقہ طورپر منظور کرلی۔گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ سے اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے درمیان چلنے والی پی آئی اے اور دیگر ایئر لائنز کے کرایے ملک کے دیگر شہروں کی بنسبت بہت زیادہ ہیں جبکہ کراچی سے لاہور اور اسلام آباد کے دوران فاصلہ اور دورانیہ زیادہ ہونے کے باوجود ان سیکٹرکے کرائے کم ہیں اس امتیازی سلوک اور ناانصافی پرصوبہ بلوچستان کے عوام میں احساس محرومی پایاجانافطری عمل ہے۔لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ کوئٹہ سے اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے درمیان چلنے والی پی آئی اے اور دیگر ایئر لائنز کے کرائے فوری طور پر کم کرانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے بشریٰ رند نے کہا کہ ایک سال پہلے بھی میں نے ایوان میں اسی مسئلے پر قرار داد پیش کی تھی مگر بلوچستان لاوارث صوبہ ہے جس کی فکر کسی کو نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جو لوگ فضائی سفر کرتے ہیں ان میں سے پچاس فیصد وہ لوگ ہیں جو کسی مجبوری کی وجہ سے سفر کرتے ہیں کوئٹہ سے کراچی ایک گھنٹے کی فضائی مسافت پر واقع ہے اس کے باوجود 37ہزار روپے چارج کئے جاتے ہیں جبکہ کراچی سے اسلام آباد دو گھنٹے کا سفر ہونے کے باوجود صرف16ہزار روپے چارج کئے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کو پی آئی اے اور سیرین ایئر لائنز کے سروسز کے بائیکاٹ کا اعلان کرنا چاہئے۔ پشتونخوا میپ کے رکن نصراللہ زیرئے نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے حکام بلوچستان کو نظر انداز کررہے ہیں یہ ایوان کی بھی نہیں سنتے لہٰذا ان کی سروسز کا بائیکاٹ کرکے متعلقہ حکام کو ایوان میں طلب کیا جائے جس پر ڈپٹی سپیکر نے پی آئی اے اور سیرین ایئر لائنز کے حکام کو اگلے اجلاس پر اسمبلی میں طلب کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام آکر اس حوالے سے بریفنگ دیں۔ بعدازاں انہوں نے ایوان کی مشاورت سے قرار داد کی منظوری کی رولنگ دیتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس جمعرات27جنوری تک ملتوی کردیا۔


