پشاور،مزید چار ڈاکٹروں میں کورونا کی تشخیص

لیڈی ریڈنگ ہسپتال ایم ٹی آئی پشاور کے مزید چار ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس وبا سے ایک ہسپتال کا ایک ملازم بھی متاثر ہوا ہے۔ہسپتال ترجمان کے مطابق کورونا سے متاثر ہونے والی چاروں خواتین ڈاکٹرز ہیں، جن میں دو ٹی ایم اوز اور دو ایچ اوز شامل ہیں.ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ڈاکٹرز مختلف وارڈز میں ڈیوٹی سرانجام دے رہی تھیں. ترجمان محمد عاصم کے مطابق متاثرہ سٹاف کو گھروں اور ہاسٹل میں قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 41 ڈاکٹرز اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہے۔ دیگر میڈیکل عملے میں پندرہ نرسیں اور سات پیرا میڈیکس شامل ہیں۔ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن صوبہ خیبر پختونخواہ کے فوکل پرسن ڈاکٹر سراج السلام نے صحافی محمد زبیر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ ہم بار بار اپیل کررہے ہیں کہ جن ڈاکٹروں سے آپ لوگ ایمرجنسی میں ڈیوٹی کروا رہے ہیں بھلے وہ کورونا وارڈ اور کورونا ایمرجنسی میں ڈیوٹی نہیں کررہے ہیں ان کو بھی حفاظتی سامان مہیا کریں۔اب یہ جو خواتین ڈاکٹر متاثر ہوئی ہیں انھوں نے گزشتہ دو تین روز میں ایمرجنسی میں کئی ڈیلوری کیسز کیئے ہیں۔ان کا مریضوں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ رابطہ تھا۔ظاہر ہے ان کو بھی وائرس کسی مریضہ یا اپنے ساتھی سے منتقل ہوا ہوگا۔ مگر انھوں نے اب جتنے مریضوں کو دیکھا ان کو بھی وائرس منتقل ہوگیا۔ ہوسکتا ہے ان کے گھر والے بھی متاثر ہوگے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح یہ ایک خطرناک صورتحال بنتی جارہی ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ ہسپتالوں میں فرائض انجام دینے والوں کو حفاظتی لباس مہیا کرئیں۔انھوں نے بتایا کہ اسی طرح نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال پشاور میں سنیئر ڈاکٹر میں کورونا پازئیٹو آیا ہے۔ جن کو بھی اس وقت آسولیشن وارڈ میں الگ تھلک رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر سراج السلام کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ میں ڈاکٹروں کے حوالے سے صورتحال تشویش ناک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں