بھارت 39کھرب سے زائد کا بجٹ پیش دفاع کیلئے کھربوں روپے مختص

نئی دہلی:بھارت میں نئے مالی سال کے لیے یکم فروری کو39.45کھرب کا بجٹ پیش کر دیا گیا، جو کئی ملکو ں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انفراسٹرکچر کو وسعت دینے اور سستے مکانات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی۔39.45کھرب بھارتی روپے کے بجٹ میں دفاع کیلئے5.25لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔نرملا سیتارمن نے شاہراہوں کی ترقی کے پروگرام کے لیے 200 ارب روپے خر چ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں اگلے مالی سال میں 4.6 فیصد زیادہ مالی وسائل خرچ کیے جائیں گے۔ انہوں نے تاہم آئندہ مالی سال 2022-2023کے دوران نسبتا سست رفتار اقتصادی ترقی کا اشارہ دیا اور کہا کہ رواں مالی سال کے دوران تقریبا 9.2 فیصد اقتصادی ترقی کے مقابلے میں اگلے برس یہ شرح آٹھ تا 8.5فیصد رہنے کی امید ہے۔ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے بجٹ کو عوام دوست ٹھہراتے ہوئے دور اندیشی پر مبنی قرار دیا۔ ادھراپوزیشن جماعتوں نے اس نئے بجٹ کو عوام دشمن اور بھارتی عوام کے ساتھ دھوکا قرار دیتے ہوئے کہاکہ عام آدمی کے لیے بجٹ محض صفر ہے اور جو شہری مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہیں، ان کے لیے اس بجٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ اس بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، مڈل کلاس، غریبوں، محروم شہریوں، نوجوانوں، کسانوں اور چھوٹے صنعت کاروں کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کے لیے بجٹ محض صفر ہے اور جو شہری مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہیں، ان کے لیے اس بجٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں