پاکستان جب افغانستان کے معاملے پر اقدامات کیلئے آواز اٹھائے گا تو سوال ہوگا،رضا ربانی

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان جب افغانستان کے معاملے پر اقدامات کیلئے آواز اٹھائے گا تو سوال ہوگا،پاکستان میں دہشتگردی کو پروموٹ کر رہے ہیں،بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات اور شہادتوں کے خون کا جوابدہ کون ہوگا،ہمیں اپنے معاملات میں بہت کلیئر ہونا ہوگا،پاکستان کو اپنی نیشنل سیکورٹی کی ترجیحات کو واضح رکھنا پڑے گا۔ سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اوآئی سی اجلاس یہاں ہوا بہت سے اقدامات کئے گئے کیا ہوا،یہاں پر میں حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتا،او آئی سی نے آج تک کوئی کردار اداہی نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ او آئی سی سوائے لب کشائی کے عملی اقدامات اج تک نہیں کر سکی،او آئی سی کا کشمیر کے معاملے پر کردار سب کے سامنے ہے۔ رضا ربانی نے کہاکہ او آئی سی نے اگر افغانستان کیلئے کچھ طے کیا تو وہ صرف پیپر تک محدود ہوگا،افغانستان میں ایک انسانی لمیہ پیدا ہورہا ہے یہ بات درست ہے۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ پاکستان جب افغانستان کے معاملے پر اقدامات کیلئے آواز اٹھائے گا تو سوال ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے یہ دیکھا کہ بغیر پارلیمان کو اعتماد میں لیے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا آغاز کیا،نہ صرف مذاکرات کا آغاز بلکہ ریاست نے ایک سیسز فائر بھی کیا۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہ اکہ وزیر داخلہ ایک ہفتہ قبل بتاتے ہیں بلوچستان میں جو گٹھ جوڑ ہوا اس میں ٹی ٹی پی کا ہاتھ تھا۔انہوں نے کہاکہ وزیر داخلہ فرماتے ہیں اگر ٹی ٹی پی مذاکرات کیلئے آتی ہے تو ہم ہاتھ بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ لوگ پاکستان میں دہشتگردی کو پروموٹ کر رہے ہیں،بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات اور شہادتوں کے خون کا جوابدہ کون ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ آج تک ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا کہ کن شرائط پر مذاکرات ہوئے، جو پاک فوج کے جوانوں کے شہادت ہوئی اس کا کون جواب دے گا۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف پاکستان پر دہشتگردی کے حملے پاکستان فوج کے جوانوں کی شہادت ہے،کون جواب دے گا اتنا کچھ ہونے کے ساتھ مذاکرات کیوں؟۔ انہوں نے کہاکہ پھر بات ہوئی کہ بارڈر پر باڑ لگانے کیلئے اقدامات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پھر بتایا گیا کہ افغانستان کے کہنے پر بارڈر پر بارڈر پر باڑ لگانے کو روک دیا گیا،فیصلے آئندہ پاکستان کی نسلوں کیلئے اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 1947 سے آج تک ریاست فیصلے کرتی آئی سویلینز کو ان فیصلوں سے دور رکھا گیا،ان فیصلوں کے بدلے میں آج تک ملک کو کیا ملا۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ وزیر داخلہ کو پریس کانفرنس کی بجائے یہاں حقائق بتانے چاہیے تھے،اس دفعہ چین سے تعلق میں کہیں وہ آئرن برادرز نہیں دکھائی دیا۔ رضا ربانی نے کہاکہ ہمیں اپنے معاملات میں بہت کلیئر ہونا ہوگا،پاکستان کو اپنی نیشنل سیکورٹی کی ترجیحات کو واضح رکھنا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک عالمی گیم ہے جس میں بھارت بھی ملوث ہے،آئی ایم ایف کون ہے جو ہم سے فیٹف کی شرائط منوا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں