اسلام آباد، جعلی منفی رپورٹس جاری کرنے پر 9افراد گرفتار

بیرون ملک جانے کے خواہشمند مسافروں کو کورونا وائرس کی جعلی منفی رپورٹس جاری کرنے کے الزام میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں موجود دو لیب کے 9 ملازمین اور نمائندوں کو گرفتار کر لیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں لیبز کے مالکان اور ان کے عملے کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش کے لیے عدالت سے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔
یہ جعلی منفی رپورٹس اسلام آباد کے جی ایٹ اور بلیو ایریا میں واقع دو لیبز نے جاری کیں۔
ایف آئی اے کے محکمہ امیگریشن نے کچھ مسافروں کی منفی کووڈ رپورٹس کو مشکوک پایا اور انہیں تفتیشی ونگ کے ساتھ شیئر کیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ٹریول ایجنٹس نے مبینہ طور پر پاسپورٹ کی فوٹو کاپیاں لیبز کو بھیجیں اور 5 سے 10 منٹ کے اندر اندر کوئی نمونہ جمع کیے بغیر منفی رپورٹس مل گئیں، دوران تحقیق یہ بھی انکشاف ہوا کہ جعلی رپورٹس صرف غیر ملکی سفر کے لیے تیار کی گئیں۔
اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر وقار احمد چوہان کی ہدایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر زبیر احمد شیخ کی سربراہی میں کی گئیں۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے دو لیبز کے ان 9 ملازمین کو گرفتار کیا جو نمونے حاصل کیے بغیر رپورٹس جاری کرنے کے جرم میں ملوث پائے گئے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کورونا ٹیسٹ کی مثبت رپورٹس آنے کی صورت میں مسافروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ انہیں اس وقت سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ان کے ٹکٹ کی کچھ رقم کاٹ لی جاتی ہے اور قرنطینہ کی سہولت کے لیے پیشگی بکنگ کی صورت میں فیس کی مد میں ادا کی گئی رقم واپس نہیں کی جاتی۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر وقار احمد چوہان کا کہنا تھا کہ عدالت سے تمام 9 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں