ای او بی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں اربوں کی اراضی خلاف ضابطہ خریدنے کا انکشاف
اسلام آباد:پارلیمنٹ کی ذیلی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ ای او بی آئی کی جانب سے ڈی ایچ اے اسلام آباد میں خلاف ضابطہ طور پر 15ارب روپے سے زائد مالیت کی اراضی خریدی گئی،کمیٹی نے ایف آئی اے کے پاس موجود ای او بی آئی کے کیسز کی تفصیلات پر بریفنگ کے لئے ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کر لیا،کنوینر کمیٹی نے وزارت اوورسیز پاکستانیز سے کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کی ایک مہینے میں رپورٹ طلب کر لی۔بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر کمیٹی ریاض فتیانہ کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وزارت اوورسیز پاکستانیز کے سال 2011-12 سے 2014-15تک کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوشن انتظامیہ کی جانب سے 2012میں ڈی ایچ اے اسلام آباد میں 321.3کینال کی اراضی خریدی جس کی پوری مالیت 15.74ارب روپے تھی، یہ پراپرٹی بغیر ٹینڈرکے اشتہار کے خریدی گئی۔کنوینر کمیٹی نے حکام کو کہا کہ ای او بی آئی کے سارے کیسز کے حوالے سے وزیراعظم کوسمری بھیجیں،سرکاری وکیلوں کے بجائے بڑا وکیل ہائیر کریں،کیسز کا پورا چارٹ بنائیں، اربوں کے معاملات ہیں۔رکن کمیٹی سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی 30دن میں دی جائے،آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 18کے 18کیسز ایف آئی اے کے پاس ہیں،کنوینر کمیٹی نے کہا کہ23فروری کو ڈی جی ایف آئی اے کو بلائیں کہ کتنے کیسز کتنے عرصے سے انکوائری میں پھنسے ہوئے ہیں، کنوینرکمیٹی نے وزارت اوورسیز پاکستانیز سے کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کی ایک مہینے میں رپورٹ طلب کر لی۔(ع ا)


