سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ کے بیٹے کے گھر سے پولیس اہلکار کی لاش برآمد

کراچی:سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ کے بیٹے کے گھر سے پولیس اہلکار کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قائم علی شاہ کے بیٹے کے گھر سے پولیس اہلکار کی لاش برآمد ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ درخشاں تھانے کی حدود میں پیش آیا۔اے ایس پی درخشاں دلاور کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار کو فٹس پڑتے تھے۔بظاہر موت طبعی نظر آ رہی ہے۔اہلکار گھر کے کوارٹر میں رہتا تھا۔قائم علی شاہ کے بیٹے کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پولیس اہلکار کو مکان کرائے پر دیا ہوا تھا۔لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل دسمبر میں ناظم جوکھیو نامی شخص کی لاش رکن سندھ اسمبلی جام اویس کے فارم ہاس سے برآمد ہوئی تھی 08 نومبر 2021 کو ناظم جوکھیو قتل کیس کی ملیر کورٹ میں سماعت ہوئی۔دوران سماعت وکیل مدعی نے کہا کہ ملزم جام اویس کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت کو نشاندہی پر ایس ایچ او میمن گوٹھ نے ملزم کو ہتھکڑی لگائی۔ عدالت نے تفتیشی افسر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو آپ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوران سماعت مدعی کے وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، نہ فارم ہاس کی سی سی ٹی وی فوٹیج لی گئی۔مقتول کا موبائل بھی برآمد نہیں کیا جاسکا، نہ ہی موبائل کا سی ڈی آر کروایا گیا۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس مقدمے میں دہشتگردی، اغوا اور دھمکانے کی دفعات شامل کی جائیں۔جس کے بعد ناظم جوکھیو قتل کیس میں پولیس کا تفتیشی افسر تبدیل کر دیا گیا جبکہ نئے تفتیشی افسر نے تفتیش کے لئے مزید وقت کی استدعا کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں