بی اے پی کا مطالبہ ہے بلوچستان کے عوام کی مشکلات حل کرنے کیلئے وفاق سپورٹ کرے، شبلی فراز
اسلام آباد: سینٹ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین نے حکومت کی جانب سے مسلسل نظر اندزا کئے جانے پر واک آؤٹ کیا۔ جمعہ کو سینٹ اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کئے جانے کا شکوہ اور سینیٹ میں احتجاج کیا۔سینیٹر عمراحمد زئی نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کووفاقی حکومت گرے لسٹ سے نکل لے،وفاق میں ہمیں نمائندگی نہیں دی گئی۔سینیٹر عمراحمد زئی نے کہاکہ ہم بلوچستان میں حکومت میں ہیں ہم سے لوگ پوچھتے ہیں،ستر سالوں میں نیشنل بینک کا ایک صدر بلوچستان سے نہ آسکے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں وفاقی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی تو آئندہ اجلاس میں نہیں آئینگے جس کے بعد اراکین ووک آؤٹ کر گئے۔چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے وزیر مملکت علی محمد خان کو بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کو منانے کے ہدایت کی۔ صادق سنجرانی نے کہاکہ اپنے ساتھیوں کو منا کر واپس لائیں۔وفاقی وزیر شبلی فراز نے بی اے پی کے واک آؤٹ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بی اے پی کا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کی مشکلات حل کرنے کے لئے وفاق سے سپورٹ چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہم انکو سپورٹ دے رہے ہیں،بلوچستان عوامی پارٹی ہمارے اتحادی ہیں اور رہیں گے،بی اے پی نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کا مطالبہ ناجائز نہیں ہے،وزیراعظم میرٹ پر انکی گزارشات سنیں گے اور فیصلہ کرینگے۔


