ملک میں ماروائے آئین جبری نما گمشدگیوں میں اضافہ تشویشناک صورتحال اختیار کر چکا ہے، سینیٹر طاہر بزنجو
اسلام آباد: نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر میر طاہر بزنجو، سینیٹر اکرم دشتی سے نیشنل پارٹی کے صوبائی سوشل میڈیا سیکریٹری سعد دہوار، گہرام گچکی، نجیب زہری، نوید بزنجو، نادر بلوچ نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سینیٹر میر طاہر بزنجو اور سینیٹر اکرم دشتی نے اپنے گفتگو میں کہا کہ نیشنل پارٹی پرامن سیاسی جدوجہد پر عمل پیرا ہیں اور پارٹی کی جدوجہد طویل قربانیوں پر ہے اس ساری عمل میں ہمارے اکابرین نے مثالی جدوجہد کی ہے جو تمام جمہوریت پسندوں کے لیئے مشعل راہ ہے اور ناقابل فراموش ہے، اور تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھا جائے گا اس موقع پر بلوچستان میں ماروائے آئین گمشدگیوں پر انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اور بلخصوص بلوچستان میں یہ سلسلہ زور و شور سے جاری ہے ایک بڑی تعداد میں سیاسی کارکنان جن میں شعراء و ادیب بھی شامل ہیں جو کئی سالوں سے عقوبت خانوں میں اذیت کا شکار ہیں جوکہ آئین کے منافی ہے اور ملکی سلامتی کے لیئے نیک شگون نہیں نیشنل پارٹی کا شروع دن سے یہ موقف رہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اگر کوئی سیاسی کارکن کسی ایسی عمل میں ملوث ہے تو اسے ملکی قانون کے مطابق سزا دی جائے نہ کہ ماروائے آئین لاپتہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت سلیکٹڈ حکومت نے ملکی معشیت دیوالیہ کردیا ہے مزدور اور کسان دو وقت کی روٹی کا محتاج ہوچکے ہیں اور کمر توڑ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا محال کررکھا ہے اور حکمرانوں نے ملکی اداروں کو ہونے پونے داموں پر گروی کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے نکلنے والے وسائل اور ساحل بلوچستان کے عوام کی مشترکہ ملکیت ہیں اور نیشنل پارٹی کسی بھی حکومت کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ بلوچ ساحل اور وسائل کا بلوچ قوم کی مرضی منشاء کے بغیر سودا کریں سیندک پراجیکٹ ریکوڈک گوادر سمیت کو غیروں کے سپرد کریں۔ ہماری جماعت ہر محاذ پر نا صرف اس عمل کی مذمت کرے گی بلکہ سیاسی مزاحمت بھی کرے گی۔


