خیبر پختونخوا میں حیران کن بلدیاتی نتائج

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں کہ جے یوآئی اور پی ٹی آئی میں سے کس پارٹی نے میدان مار لیاہے؟ عوامی موڈ سے ملا جلا تأثر ملتا ہے۔پشاور میں اگر پی ٹی آئی نہیں جیت سکی تو یہ صورت حال جے یو آئی کے ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان میں دیکھنے کو ملی۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ڈی آئی خان میں دونوں جماعتوں کوملنے والے ووٹوں کا فرق24862 ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیاہے کہ الیکشن شیڈول خود طے کرے۔رمضان،عید اورمحرم جیسی تاویلات کا بہانہ نہ کیا جائے،سپریم کورٹ کوئی غلط مثال قائم نہیں کرے گی۔لگتا ہے عدلیہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو یہ پیغام دیاگیا ہے کہ ایک خودمختارآئینی ادارہ ہو، اپنے فیصلے خود کرو،عدلیہ کندھے استعمال نہ کرو۔دراصل گزشتہ دہائیوں میں ادارے اس حد تک مفلوج رہے ہیں حکومتی اشارے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے۔ وجوہات سے سب واقف ہیں۔اس ضمن میں نیب کی مثال دی جا سکتی ہے۔لیگی وزراء کی جانب سے نیب کے پر کترنے کی دھمکی کے بعد نیب کی کار کردگی صفرہو گئی تھی۔خودعدلیہ سے فون کال پر فیصلے لکھوانے کا شرمناک رواج قائم ہو چکا تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کیس پر چیف جسٹس عطاعمر بندیال کا فیصلہ تمام پاکستانیوں اور اداروں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔اس فیصلے کے بعد توقع کی جانی چاہیئے کہ ملک کی تقدیر کے فیصلے نظریہ ضرورت کے تحت نہیں ہوں گے بلکہ آئین اور قانون کے مطابق کئے جائیں گے۔ اصلاح کا خیال آجائے تو سمت درست ہونے کاعمل شروع ہوجاتا ہے۔ماضی میں ملک کے کرتا دھرتا بگاڑ کو ہی مقدر سمجھ بیٹھے تھے ورنہ بگاڑ کو اتنی ترقی اور عروج نہ ملتا۔پرانے افسران کی کھیپ اپنی مدت ملازمت پوری کرکے جب تک گھر نہیں جاتا،معاشرے(اور اداروں) کی آئیڈیل اصلاح ممکن نہیں۔ کچھ وقت یقینالگے گا۔حکومت نے قانونی اصلاحات تیار کرکے منظوری کے عملی اقدامات کا آغاز کر دیاہے۔اسٹے آرڈ ر کے نام پر سماعت نہیں روکی جا سکے گی۔لہٰذا اسٹے آرڈر کا تاخیری حربے والا کردار ختم ہو جائے گا۔وزیر قانون کے مطابق ایف آئی درج کرانے کے لئے لوگوں کو عدالت جانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی تو عدالتوں پر مقدمات کا یہ بوجھ خود بخود کم ہو جائے گا۔ یہ امر یقینی ہے کہ اصلاح کا عمل انجام تک پہنچے بغیر نہیں رکے گا۔اس کی وجہ یہی قانونی اصلاحات بنیں گی۔گیند پارلیمنٹ کے کورٹ میں ہے۔حکومت سینیٹ کے عدم تعاون کی صورت میں مشترکہ اجلاس بلا کر اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔کبھی کبھار فون کالز سے بھی مدد مل جاتی ہے، سینیٹ رکاوٹ نہیں بنتا۔علاوہ ازیں اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اپوزیشن خود بھی سمجھ رہی ہے کہ اراکین پر پارٹی قیادت کا ماضی والا رعب و دبدبہ باقی نہیں رہا۔جس کا جہاں فائدہ ہو وہ ویسا ہی کرتا ہے۔سینیٹ کے انتخابات اس کی مثال ہیں۔لین دین کی ویڈیوز منظر عام پر آ چکی ہیں۔چونکہ قانون کی بالادستی نہیں ہے اس لئے لین دین کرنے والوں کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے نہیں دیکھا۔لیکن یہ بھی نظر آنے لگا ہے کہ معاشرہ اس رویہ کو ناپسند کرنے کی طرف مائل ہو رہا ہے۔چین میں اگر 400بااثر کرپٹ افراد کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے دوسروں کو انجام دکھایا گیا تو معاشرے میں قانون کی بالادستی اپنی جڑیں پھیلانے لگی۔ان مارے جانے والوں میں وہ شخص بھی شامل تھا جس نے پاکستان کو گھٹیا ریلوے انجن بیچے تھے۔پاکستان میں وہ شخص حکومت گرانے والے وفد میں شامل ہوکر حکومتی اتحادیوں سے ساتھ دینے کی درخواست کر رہا ہے۔جب تک دنیا کے تمام ممالک میں قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہوتی،کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ اس لئے انتظار کرنا ہوگا۔ہمارے سیاست دان عجلت میں ہیں لیکن عام آدمی یہ بات جانتا ہے کہ معاشرے سوئچ آن آف کرنے سے نہیں بنتے۔ایک نسل سدھارنے کا کام کرتی ہے، تب کہیں سدھار نظر آتا ہے۔اب کرپشن کے خلاف مقتدر حلقے اس لئے سرگرم ہیں کہ ریاست کو بچایا جائے۔جب کوئی معیشت داں یہ کہتا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکاتو وہ یہ کہہ رہاہوتا ہے کہ بہت ہوچکا، اب سدھر جاؤ، نہ سدھرے تو ریاست کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ریاست کی بقاء اولین ترجیح بن چکی ہے۔آج وزیر خزانہ میں یہ تسلیم کررہا ہے کہ اگر پاکستان دیوالیہ ہوجائے تو 72گھنٹے میں سعودی عرب اپنے سود پر دیئے گئے 3ارب ڈالر واپس مانگ لے گا۔یہ لکھ کر دستخط کرنے کا مطلب ہے کہ اگر یہ براوقت آیا تو پاکستان72گھنٹے میں سعودی عرب کو3ارب ڈالر واپس کرنے کا پابند ہوگا۔مقتدر حلقے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے تمام وسائل بہتر انداز میں بروئے کار لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔شعبہ تعلیم کو سدھارا جا رہا ہے۔ایک نصاب طے کرنا اسی سمت اٹھنے والا ایک قدم ہے۔بھنگ کی اسپیشل کاشت دیوالیہ ہونے سے بچاؤ کی ایک کوشش ہے۔سستی بجلی کے لئے ڈیم تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کے پیچھے بھی یہی خوف کارفرما ہے۔پہلے چیف جسٹس(ر) ثاقب نثارنے پانی کے مسئلے کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا۔آج ڈیم تعمیر کرنے کا عشرہ کہہ کروزیر اعظم عمران خان عالمی ماہرین کے سمپوزیم کی میزبانی کرکے اسی سمت میں دوسرا قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔اپوزیشن پاکستان کی معاشی حالت سے بے خبر نہیں۔لانگ مارچ کے سلسلے میں کوئی گہما گہمی نظر نہیں آتی،اس کی دیگر وجوہات کے ساتھ ایک وجہ ملکی معیشت کی زبوں حالی بھی ہے۔ساری سرگرمیاں حکومت کو کوسنے تک محدود ہیں۔میدان میں خیمہ زن ہونے والی کوئی علامت نظر نہیں آرہی۔خانیوال میں مذہبی جنونیوں کے ہاتھو ں ایک مشتاق نامی شخص کا بھیانک قتل بھی ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔پاکستان صرف معاشی بدحالی کی دلدل میں نہیں دھنسا بلکہ اخلاقی پستی کا بھی شکار ہے۔ابھی سری لنکن منیجر کی چیخیں فضاء سے معدوم نہیں ہوئی تھیں کہ ظالموں ایک اور شخص کی جان لے لی۔ پولیس دونوں واقعات میں ہجوم کا سامنا کرنے سے معذور دکھائی دی۔ریاست کو پولیس کے دلوں سے خوف نکالنے کی سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی۔ مہذب ملکوں میں پولیس کا رویہ بہادرانہ ہوتا ہے۔یہ درست ہے کہ مذہبی جونونیت وہاں بھی بے قابو ہے۔لیکن نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے موقع واردات پر پہنچ کرجو کردار ادا کیا، اسکے نتیجے میں وہاں دوسرا مذہبی جنونی ابھی تک منظرعام پر نہیں آیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم کو بھی نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں