سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اجلاس،خود مختار ادارہ بنانے سے غیر ضروری التواء میں بہتری آئیگی، کہدہ بابر
اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹر ثنا جمالی، سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر ذیشان خانزادہ، سینیٹر افنان اللہ خان، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان، سینیٹر سیمی ایزدی، سینیٹر نسیمہ احسان، سینیٹر روبینہ خالد، سکریٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمونیکیشن، چیئرمین پی ٹی اے اور این آئی ٹی بی کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں قومی اسمبلی سے منظور شدہ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ایکٹ 2022کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور (این آئی ٹی بی)کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ مجوزہ بل کا مقصد (این آئی ٹی بی)کو ایک خودمختار ادارہ بنانا ہے تاکہ رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے ادارے کے کام میں مزید تیزی اور بہتری لائی جا سکے۔ حکام کا کہنا تھاکہ ایک ماتحت ادارہ ہونے کی وجہ سے این آئی ٹی بی کو مالی معاملات میں اکثر التوا کا سامنا رہتا ہے جو خاص طور پر آئی ٹی جیسے تیزی بدلتے سیکٹر کے لیے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے سوال کیا کہ این آئی ٹی بی کے خودمختار ہونے سے کیا تبدیلی آئیگی اور اس سے ملک کوکیا فائدہ ہوگا۔ جس کا جواب دیتے ہو ے وزارت کے حکام نے بتایا کہ این آئی ٹی بی کامیابی کے ساتھ حکومت پاکستان کو معیاری آئی ٹی کی سہولیات فراہم کرتا رہا ہے جن میں ای آفس، این سی او سی کی ایپلیکیشن اور دیگر شامل ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ این آئی ٹی بی انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے بھی مسلسل کام کررہا ہے۔ کوئی بھی منصوبہ شروع کرنے سے پہلے پی ایس ڈی پی گرانٹس حاصل کرنے کے لیے ایک طویل پروسیس سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ آئی ٹی جیسی فیلڈ کے لیے موزوں نہیں ہے۔ خودمختار ادارہ بنانے جانے سی غیر ضروری التوا کے خاتمے کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی کے عمل میں بھی بہتری آئے گی۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت جاری کی کہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں مجوزہ بل کا شق وار جائزہ لیا جائیگا۔وزارت کی طرف سیپاکستانی آن لائن فری لانسرز کو درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی اجلاس میں خاص طور پر آن لائن فری لانسرز کے مالیاتی لین دین /غیر ملکی ترسیلات زر کی پروسیسنگ اور وزارت کی جانب سے تخفیف کیلئے کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر نے کمیٹی ارکان کو بتایاکہ پاکستان میں فری لانسرز بغیر کسی حکومتی سپورٹ کے ملک میں کروڑوں روپے آمدنی پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اس شعبے سے نچلے اور متوسط طبقے کے نوجوان منسلک ہیں۔ یہ نوجوان حکومتی امداد اور حوصلہ افزائی سے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کے حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزارت کے حکام نے بتایا کہ فری لانسرز اور دیگر متعلقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان نوجوانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ مالی لین دین اور ترسیلات کے عمل کو آسان بنانے کے لیے سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر لوکل پیمنٹ سسٹمز اور بین الاقوامی فنانشل ٹرانزیکشنز کا طریقہ کار طے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فری لانسرز کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا ہے لیکِن اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے فری لانسرز ابھی تک رجسٹریشن کے عمل سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ آگاہی مہم کے ذریعے ان نوجوانوں کو رجسٹریشن کے فوائد کے بارے میں بتاتے ہوئے باقاعدہ ڈیٹابیس میں شامل کیا جائے۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ یہی نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور انکی ہر ممکن مدد کی جانی چاہیے۔ سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کمیٹی ارکان کو بتایا کہ ملک بھر میں نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر مختلف تربیتی پروگرامز شروع کیے گئے ہیں تا کہ گریجویٹس کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تیار کرتے ہوے انکی صلاحیت کو مزید نکھارا جا سکے۔ اگر فری لانسرز رجسٹرڈ ہوتے ہیں تو انھیں ٹیکس میں چھوٹ کے ساتھ ساتھ مزید سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔چیئرمین پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو نئے سپیکٹرم فروخت کرنے کے اپنے منصوبے کے بارے میں کمیٹی کو بتاتے ہوئے کہا کہ سپیکٹرم کی نشان دہی اور اس سے متعلقہ معاملات فریکوئینسی ایلوکیشن بورڈ کے ذمے ہیں۔ ماضی میں پانچ مرتبہ سپیکٹرم کی نیلامی کی جا چکی ہے جس سے ملک کو قیمتی زر مبادلہ حاصل ہوا ہے۔ سینیٹر افنان اللہ خان نے سوال پوچھا کہ پی ٹی اے پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کب تک لانچ کرنے جا رہا ہے جس کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ حکومت کا ارادہ ہے کہ 2023تک ملک میں فائیو جی لانچ کیا جائے۔ سینیٹر افنان اللہ خان نے سپیس ایکس اور سٹار لنک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے سوال کیا۔ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ سٹار لنک کے ساتھ سیٹلائٹ سے سستے انٹرنیٹ کی فراہمی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور سٹار لنک نے پاکستان میں ایک کمپنی بھی ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ کر دی ہے۔ ریگولیٹری مماملات طے ہوتے ہی سٹار لنک اپنی سروس شروع کر دے گا جس سے خاص طور پر دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو سستے انٹرنیٹ کی سہولت میسر آئیگی۔


