سانحہ اعوان ، سردار یار محمد رند نے حکومت کو48گھنٹوں کی مہلت دےدی
کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے اعوان برداری کے تین افراد کے قتل اور دو افراد کو زخمی کرنے میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائی کے لئے صوبائی حکومت کو 48گھنٹوں کی مہلت دے دی، انہوں نے وزیراعظم عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیکر کاروائی عمل میں لائیں، یہ بات انہوں نے جمعہ کی شب بلوچستان اسمبلی کے باہر جاری اعوان برداری کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، قبل ازیں جمعہ کو اعوان برداری کے افراد نے سردار یار محمدر ندکی قیادت میں کچھی میں اعوان برداری کے تین افراد کے قتل اور دو افراد کو زخمی کرنے کے ملزمان کے خلاف کاروائی نہ کئے جانے کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاجاً دھرنا دیا، دھرنے کے شرکاءکا مطالبہ ہے کہ اعوان برداری کے افراد کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ۔دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے سردار یار محمد رند نے کہا کہ بولان میں 40گھنٹے تک دھرنا دینے کے بعد مشیر داخلہ کی جانب سے ملزمان کے خلاف کاروائی کرنے کی یقین دہانی اور عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے دھرنا کوئٹہ منتقل کیا گیا حکومتی یقین دہانی کے باوجود کسی بھی قسم کی کاروائی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے بلوچستان کو ساڑھے تین ارب روپے میں خریدا ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ ساڑھے تین ارب پورے اور 10ارب مزید کمالئے جائیں جس کے لئے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے ڈیم، قومی شاہراہوں کے منصوبوں پر 14فیصد تک کمیشن لیا جارہا ہے ایس ڈی او، ایکسین سمیت دیگر آسامیاں فروخت کی جارہی ہیں تین ٹھیکیدار صوبے کے فیصلے کر رہے ہیں ،کابینہ میں وزراءکو شامل کرنے پر بھی پیسے لئے گئے ہیں عوام آئندہ انتخابات میں اسکیمات کی خاطر نااہل اور کم ضرف حکمرانوں کو ووٹ نہ دیں انہوں نے کہا کہ جذباتی نعرے لگانے والے آج کہاں ہیں ہمیں سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان سے بھی تحفظات تھے انکی جانب سے صوبے میں کیڈٹ کالجز کا منصوبہ بجٹ سے نکالنے پر انکی کابینہ سے استعفیٰ دیا لیکن چار بار بلوچی میڑھ آیا اور یقین دہانی کروائی گئی کہ منصوبہ پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائےگا جس پر دوبارہ کابینہ میں آیا اگر یہ منصوبہ بجٹ میں شامل ہوتا تو شاید 10سال بعد بلوچستان کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں ہوتا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کرپشن اور رشوت نے خراب کئے ہیں آج صوبے میں پنجگور اور نوشکی جیسے بڑے واقعات ہوئے جب وزیراعظم اور آرمی چیف نے وزیراعلیٰ سے پوچھا کہ وہ صوبے کےلئے کیا کریں تو انہوں نے آئی جی پولیس تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا بلوچ کے بچے بھوکے ہیں، انکے پاس پانی ، تعلیم نہیں ہے تو وہ کیسے ملک سے محبت کریں گے صوبے میں ایسے لوگوں کو لانے کی ضرورت ہے جو عوام کو تحفظ دے سکیں انہوں نے کہا کہ بولان، بھاگ، سمیت دیگر علاقوں میں دانستہ طور پر حالات خراب کئے جارہے ہیں لوٹ مار، چوری ڈکیتی کی وارداتیں ہورہی ہیں پالیسی بنانے والے مقتدرہ حلقے بلوچستان پر رحم کریں ایسے لوگوں کو اقتدار میں لانے سے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے انہوں نے کہا کہ اعوان برداری کے افراد کے قاتلو ں کو گرفتار کیا جائے وزیراعظم ،چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور آرمی چیف خود نوٹس لیکر مداخلت کریں اور مظالموں کو انصاف فراہم کریں اگر حکومت نے 48گھنٹوں میں کاروائی نہ کی تو آئندہ کے سخت لائحہ عمل کا اعلان کریں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت زیادہ دیر نہیں چلے گی وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے جس دن ساڑھے تین ارب روپے پورے کر دئےے اگلے دن وہ سیٹ پر نہیں ہونگے وزیراعلیٰ ہمیں دھکمیاں یا دباﺅ میں لانے اور کوئی ایسا اقدام نہ کریں کہ انہیں پچھتانا پڑے


