ڈی ایل ٹی ایل کا نوٹیفکیشن ایک ہفتہ تک جاری کر دیا جائے گا،شوکت ترین
فیصل آباد”: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے یقین دلایا کہ ڈی ایل ٹی ایل کا نوٹیفکیشن ایک ہفتہ تک جاری کر دیا جائے گاجو یکم جولائی 2021ئ سے نافذ العمل ہو گااور اس نوٹیفکیشن سے 45ارب روپے کے زیر التوائ ڈی ایل ٹی ایل کلیمز کی ادائیگی کی جا سکے۔وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر وزیر خزانہ نے ٹیکس کے ری فنڈ کلیمز جو سیکشن 66کے تحت زیر التوائ ہیں ا±ن کی ادائیگی کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی وزیر خزانہ نے آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولسٹری مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین عارف احسان ملک کی سربراہی میں وفد سے ملاقات کرتے ہوئے انہوں نے ایس ایم ای سیکٹر کے مسائل کو انتہائی توجہ سے سنا اورفیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایپبوما کے پلیٹ فارم سے اس سیکٹر کے مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اس میٹنگ کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے آئندہ تین ہفتوں کے دوران ایک اور میٹنگ کریں گے تاکہ اِن معاملات کو ایپبوما کی تسلی کے مطابق حل کیا جا سکے۔ اس سے قبل عارف احسان ملک نے اپنے مطالبات میں بارہ اہم نکات کی نشاندہی کی اور مطالبہ کیا کہ برآمدات سے متعلقہ تمام بورڈز ، فورم اور سمیڈا میں APBUMAکو نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مالی مسائل کے حل کیلئے سٹیٹ بینک کو ہدایت کی جائے کہ وہ ایس ایم ای سیکٹر کیلئے الگ فنڈز مختص کرے۔ ایس ایم ای سیکٹر کو لانگ ٹرم فنانس سکیم کے تحت پرانی مشینری خریدنے کیلئے بھی قرض کی سہولت مہیا کی جائے۔ اسی طرح 20ملین روپے تک کے کولیٹرل فری لون پر مار ک اَپ کی شرح کو کم کیا جائے۔ درآمدی سکیموں کو مزید آسان بنایا جائے تاکہ برآمد کیلئے درآمدی سامان سے چھوٹے یونٹ بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سنگل ونڈو کے نظام میں حائل روکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے۔ عارف احسان ملک نے کہا کہ فاسٹر کا نظام درست طریقے سے نہیں چل رہا جس کی وجہ سے دسمبر 2021ئ کے ری فنڈ میں تاخیر ہو رہی ہے۔ جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس کے ری فنڈ بھی زیر التوائ ہیں۔ انہوں نے برآمدات کے سلسلہ میں زرمبادلہ کی واپسی کی مدت میں 180سے 120دن کرنے سے پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ا س مدت کو 180دن تک ہی محدود رکھا جائے۔ اس ملاقات میں عمران محمود شیخ اور انجینئر بلال جمیل بھی شامل تھے۔


