پیکا ترمیمی آرڈننس کو جوں کا توں نافذ کیا گیا تو یہ ڈریکونین قانون ہوگا،اٹارنی جنرل

اسلام آباد:اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا)ترمیمی آرڈننس کو جوں کا توں نافذ کیا گیا تو یہ ڈریکونین قانون ہوگا۔گزشتہ روز وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام معیشت سے متعلق مقدمے میں دلائل دینے کے بعد احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس کو ریگولیٹ کرکے نافذ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس سنگین صورتحال کے تدارک کے لیے اس کا اطلاق ہر کیس پر نہیں ہوتا بلکہ پانچ ہزار میں سے ایک کیس ایسا ہوگا جس میںپیکا کا اطلاق ہوگا۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ترمیمی آرڈیننس کو جوں کا توں نافذ کیا گیا تو پھر یہ ڈریکونین لا ہوگا،قانون کو ٹھیک کررہے ہیں،معاملہ ہائی کورٹ میں ہے اور ہائی کورٹ کی کوشش ہے کہ ترمیم آرڈیننس کے دانت نکال دیے جائیں،اس ضمن میں ہائی کورٹ کی بھر پور معاونت کروں گا۔ ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیکا قانون میں حالیہ ترمیم کا اطلاق موثر با ماضی نہیں ہو سکتا۔انھوں نے کہا کہ صحافی محسن بیگ کے خلاف اس قانون کے تحت کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرکے ضابطہ اخلاق میں تبدیلی سے الیکشن کمیشن کے اختیارات پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ غلط ہے کہ ترمیم سے الیکشن کمیشن کے ا?ئینی اختیارات کو کم کیا گیا۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی حکومتی رکن یا منتخب نمائندہ کسی انتخابی مہم میں حصہ لیتا ہے ،یا انتخابی مہم چلاتا ہے تو اس سے الیکشن کمیشن کے اختیارات کیسے متاثر ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں