پاکستان امریکی بلاک سے الگ
وزیر اعظم عمران خان گزشتہ روز روس کے دو روزہ دورے پرماسکو پہنچ چکے ہیں۔یہ دورہ روس کے صدرولادیمیر پیوٹن کی دعوت پر کیا جارہا ہے، پہلے سے طے شدہ تھا، اس دورے کا تعلق یوکرین کی تازہ صورت حال سے نہیں، اسے موجودہ تناظر میں نہ دیکھا جائے۔واضح رہے یوکرین اور روس کے درمیان یہ تنازعہ2014سے چلا آرہا ہے،آٹھ سال پرانا ہے جبکہ وزیر اعظم کو روس کے دورے کی دعوت سرمائی اولمپکس،بیجنگ کی افتتاحی تقریب میں فروری کے اوائل میں دی گئی تھی۔یاد رہے 1999میں وزیر اعظم نواز شریف نے دوطرفہ دورہ کیا تھا۔کسی پاکستانی وزیر اعظم کا23سال بعد یہ اس نوعیت اور اہمیت کا دورہ ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران اس بارے وضاحت بھی کردی تھی۔وزیر اعظم متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے 74سالہ ماضی سے یہی سبق سیکھاہے کہ آئندہ کسی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا، پرائی جنگ میں نہیں کودے گا۔پاکستان نے امریکی بلاک کا حصہ بن کر بڑے جانی و مالی نقصانات اٹھائے ہیں۔ویسے بھی ہمارا مشرقی ہمسایہ امریکہ سے تزویراتی معاہدے کے باوجود دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کسی بلاک کا حصہ نہیں،غیر جانبدار ہے۔ یوکرین کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے غیرحاضر رہا۔ کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان بھی کسی ملک کی غلامی اختیار کرنے کی بجائے غیر وابستہ کردار ادا کرے۔دنیاکے دیگر ممالک کی طرح اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی کی طرف توجہ دے، انہیں غربت سے نکالے۔حال ہی میں جاری کردہ سلامتی پالیسی میں بھی اسی عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔امریکہ نے گزشتہ74برس کے دوران جو بویا ہے،خود ہی اسے کاٹے گا، پاکستان دوسروں کی غلطیوں کا بوجھ طویل عرصے تک اٹھاتا رہاہے، اس دوران اپنے عوام کے مسائل حل نہیں کرسکا۔افغانستان گزشتہ 40برس غیرملکی جارحیت کا شکار رہا، اس کے منفی اثرات پاکستان نے برداشت کئے۔اس پالیسی کے نتیجے میں معاشی طور پردیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا۔وزیر اعظم نواز شریف کے دورے کے دوران کئے گئے معاہدوں پر امریکی پابندیوں کے باعث عمل نہیں ہو سکا۔گیس اور بجلی کی شدید قلت ایران سے گیس پائپ لائن بچھا کر با آسانی دور کی جا سکتی تھی۔ ہمسایہ ملک ایران سے معاہدے پر عمل نہ کرنے کی وجہ بھی امریکی ناراضگی اور ناروا پابندی تھی۔لہٰذاپاکستانی وزیر اعظم کے دورے کا تعلق یوکرین سے جوڑنا نامناسب ہوگا۔یوکرین کے معاملے کو امریکہ بھی کسی جنگ میں تبدیل کرنے کا خواہاں نہیں، ورنہ وہ اپنی افواج بھیجنے سے گریزاں نہ ہوتا۔البتہ اس کشیدہ صورت حال کے کے نتیجے میں عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے،پاکستان بھی متأثر ہوگا۔دورہ کتنا کامیاب رہے گا اس بارے میں پیش گوئیوں کی ضرورت نہیں۔ایک دن گزر گیا دوسرا شروع ہوچکا، یہ کوئی خفیہ ملاقات نہیں کہ سارے معاملات دنیا سے چھپائے جائیں گے۔ دورے کی تفصیلات لمحہ بہ لمحہ سامنے آتی رہیں گی۔اور واضح رہے اس مرتبہ معاہدے پر عملدرآمد بھی ہوگا۔امریکی پابندیاں آڑے نہیں آئیں گی، رکاوٹ نہیں بنیں گی۔ادائیگی دونوں ملک اپنی کرنسی میں کر سکیں گے، اس ضمن میں ضروری اقدامات پہلے ہی کئے جاچکے ہیں۔روس ایک ترقی یافتہ ملک ہے، جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے،امریکی کمپنیوں سے مدد لینے کی ضرورت نہیں۔کسی تاخیر کے بغیر معاہدوں پر عملدرآمد اور بروقت تکمیل دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔امریکی دھونس اور دباؤ نے دنیا کا حلیہ تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔جنگ مسلط کرنا امریکی معیشت کا اہم ترین نکتہ ہے۔ عراق، لیبیاء،شام اور افریقی ملکوں پر بھوک، اور غربت اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ 1945 میں جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرا کر امریکہ نے دنیا کو خوفزدہ کیا اور پھر اسی خوف کومسلسل کیش کراتا رہا ہے۔اسے فوجی اسلحہ بنانے کے سوا کوئیدوسراہنر آتا ہی نہیں۔آٹو انڈسٹری پر جاپان اور کوریا کی حکمرانی ہے۔دیگر اشیائے ضرورت عالمی منڈیوں میں چین اور دیگرممالک پہنچا ر ہے ہیں۔آئی ٹی کے شعبے میں بھی امریکی حصہ اس کے بجٹ کی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہے۔نہ جانے کیوں امریکی تھنک ٹینک 1945کی نفسیات سے آج تک جان نہیں چھڑا سکے۔وہ آج بھی دنیا کو اپنے اسلحے کی مدد سے بلیک میل کر رہے ہیں۔وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ دنیا77 برسوں میں یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ایٹمی صلاحیت شمالی کوریا کے پاس بھی اتنی زیادہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن سے ایک تیسرے ملک میں ملاقات کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔یہ ملاقات امریکی تھنک ٹینک کے علم میں ہوگی اور اس کے منفی اور مثبت اثرات سے یقیناباخبرہوں گے۔ویت نام اورافغانستان سے انخلاء کے مناظر بھی ان کی تاریخ کا حصہ ہیں۔انہیں سوچنا چاہیئے کہ دنیا پر بم برسا کر انہوں نے کیا پایا؟۔۔۔ اور کیا کھویا؟اپنی معیشت کو مستحکم کیا یا کمزور؟اپنے ملک کو ہزاروں ارب ڈالر کا مقروض بنایا۔۔۔ یاخود کفالت کی منزل تک پہنچایا؟پاکستان کا غیرملکی قرض0 10اور 110ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔اور اسے دیوالیہ ہونے کے قریب سمجھا جاتا ہے،کشکول اٹھائے ملکوں ملکوں گھوم رہا ہے۔جبکہ امریکہ کا قرض میڈیا اطلاعات کے مطابق30ہزار ارب ڈالر ہے، یقیناامریکی حکمرانوں کی نیندیں اڑ چکی ہوں گی۔جتنے پسماندہ ملک تھے، اپنی ہوس زر کی خاطر راکھ کا ڈھیر بنادئے گئے۔اب طاقت ور ملک رہ گئے ہیں انہیں راکھ کا ڈھیر نہیں بنایاجاسکتا۔انہیں دھمکی دیتے وقت بھی الفاظ کا محتاط چناؤ کیا جاتا ہے۔روس اور چین کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کا علان کرنا ممکن نہیں۔شمالی کوریا مدتوں پہلے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کر چکا ہے۔امیریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوریا کے سپریم لیڈر کی عالمی میڈیا کے روبرو فہم و فراست کی تعریف کر چکے ہیں۔امریکی تھنک ٹینک جانتے ہیں کہ اندر سے ان کا ملک کہاں کھڑا ہے؟ان کی پارلیمنٹ پر دہشت گرد حملہ آور ہو چکے ہیں۔انتخابی نتائج کو پاکستانی سیاست دانوں کی طرح ٹرمپ اور ان کے حامی مسترد کر چکے ہیں۔صدر جوبائیڈن بھی عوامی مسائل اور مشکلات کا حل ماضی کے حکمرانوں کی طرح اسلحہ بیچنے کے ذریعے تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔افغانستان کے بعد وہ اپنا جنگی مرکز بحر ہند اور اس کے نواحی علاقوں میں منتقل کرنا چاہتے تھے،مگر چین نے بھارتی حکمرانوں کی آئینی ترمیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر متوقع پیشقدمی کر کے ان کایہ منصوبہ ابتداء میں ہی ختم کر دیا۔چین کو اس کے گھر میں گھس کر مارنے کی دھمکی گیدڑ بھبکی ثابت ہوئی۔وزیر اعظم عمران خان کے روسی دورے کو اسی تناظر میں دیکھا اور سمجھا جائے۔ بے بنیاد واہموں کا شکار ہونے سے بچا جائے۔


