اصولوں پر عمل کرنے میں ہی پاکستان اور روس کا فائدہ ہے،امریکا
کیف /اسلام آباد (انتخاب نیوز + :)یوکرین میں پاکستانی سفارت خانے نے کیف کے مضافات میں پھنسی پاکستانی لڑکی کی مدد سے انکار کر دیا۔آمنہ حیدر کے مطابق کیف سے 20 کلومیٹر دور ایک گاو¿ں میں دوست کے گھر پناہ لیے ہوئے ہوں، پاکستانی سفارت خانے سے نکلنے والی بس نے مجھے پک کرنے سے انکار کر دیا، کیف جانے والے راستے بند ہیں اور میرے پاس ٹرانسپورٹ نہیں کہ کیف پہنچ سکوں۔پاکستانی لڑکی کے مطابق سفارت خانے نے کہا صبح ٹرنوپل نہ پہنچی تو وہ مدد نہیں کریں گے، گزشتہ روز چلنے والی بس کے بعد اگلی بس کب چلے گی سفارت خانے کو بھی اس کا نہیں پتہ ہے۔سفارت خانے کے حکام نے آمنہ حیدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو سفارت خانے پہنچنا پڑے گا ورنہ ہم نہیں بچا سکیں گے، اگلی کوئی بس نہیں ہے، آپ آسکتی ہیں تو ٹھیک ہے۔آمنہ حیدر نے سفارت خانے کے حکام سے کہا میں تو یہاں پر پھنس جاو¿ں گی، جس پر سفارت خانے کے حکام نے جواب دیا کہ ”آئی ایم سوری“ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔یوکرین میں پاکستانی سفیر نویل کھوکھر نے کہاہے کہ یوکرین میں 3000 پاکستانی طلبہ تھے جن میں سے اکثریت کو نکالا جاچکا ہے اور اس وقت یوکرین میں 5 یا 600 طلبہ رہ گئے ہیں جب کہ 50 تا 60 طلبہ کو دو سے تین گروپس کو پولینڈ روانہ کردیاگیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے بتایاکہ ٹرنوپل میں ہمارے پاس 35 طلبہ ہیں جنہیں پولینڈ بھجوایاگیا، مشکلات کے باوجود اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی سفارت خانے نے روس سے جنگ سے متاثرہ یوکرین کے شہر خار کیف سے 70 پاکستانی طلباءکو بحفاظت نکال لیا ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق خار کیف یوکرین اور روسی افواج کے درمیان جنگ کے اہم میدانوں میں سے ایک ہے، پاکستانی طلباءکو سفارتی عملہ لویو ریلوے اسٹیشن پر ریسیو کرے گا۔دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ لویو میں سہولت ڈیسک پر مزید 23 پاکستانی طلباءپہنچے ہیں، یہ 23 پاکستانی طلباءکیف سمیت یوکرین کے مختلف شہروں سے آئے ہیں۔پی آئی اے کا یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کیلئے فضائی آپریشن پلان ترتیب دیدیا گیا ،اتوار کے روز 2 پروازیں پاکستان سے پولینڈ روانہ کرنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ۔ترجمان عبد اللہ خان کے مطابق بڑے جہاز یوکرین پولینڈ سرحد کے قریب شہروں کےائیرپورٹ پر لینڈ کرانے کے لیئے انتظامات ناکافی ہیں۔پولینڈ میں پروازوں کی لینڈنگ کےلئے پی آئی اے حکام کی پاکستانی سفارتخانے سے مختلف آپشن پر مشاورت مکمل کرلی گئی۔


