گلزار دوست ہوشاپ پہنچ گئے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے خواتین کا دھرنا
تربت(نمائندہ انتخاب ) تربت سے کوئٹہ پیدل لانگ مارچ کرنے والے کامریڈ گلزار دوست 100کلومیٹر فاصلہ طے کرکے ہوشاپ پہنچ گئے ،ہوشاپ پہنچنے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا اور ان کے ساتھ قافلے کی صورت میں چلے ، جن میں خواتین بچے اور نواجون شامل تھے ، تربت سول سوسائٹی کے کنوینر کامریڈ گلزار دوست کے مطابق پا¶ں میں سوجن اور آبلہ پڑنے کے باوجود وہ آج رات تک بالگتر پہنچنے کی کوشش کریں گے، کامریڈ گلزار دوست 27 فروری سے لاپتہ افراد کی بازیابی، بلوچ نوجوانوں کی گمشدگی روکنے سمیت سیکیورٹی فورسز کی رویے اور آبادیوں کے اندر قائم چوکی و چیک پوسٹس کے خلاف پیدل لانگ مارچ پر ہیں،راستے میں ہر جگہ لوگوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے موجود ہے۔تربت(نمائندہ انتخاب ) ہوشاپ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے خواتین کا احتجاج، سی پیک روڈ بلاک کردیا، ہوشاپ میں خواتین نے جمعرات کو سی پیک شاہراہ پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دھرنا دے کر روڈ بلاک کردیا، انتظامیہ کی جانب سے تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست کی سربراہی میں مذاکرات کے بعد روڈ کھول دیا گیا،خواتین کاکہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بلاوجہ علاقے سے تین افراد کو جبری لاپتہ کردیا ہے جن کی بازیابی کے لیے وہ اس سے پہلے بھی انتظامیہ کے پاس گئے ہیں لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اس موقع پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پیدل لانگ مارچ کرنے والے تربت سول سوسائٹی کے کنوینر کامریڈ گلزار دوست نے وہاں پہنچ کر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے بلوچستان میں جبر اور تشدد ہر روز ایک نئی اذیت ناک شکل میں سامنے آرہی ہے، انہوں نے کہاکہ ایک جانب فورسز کے افسران بلوچ عوام کا دل جیتنے کے لیے کلچر ڈے مناتے اور جرگہ منعقد کرتے ہیں جہاں آئندہ بلوچ عوام کو زیادتیوں سے نجات کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن دوسری طرف تواتر سے نوجوانوں کے اغواءکا سلسلہ بھی جاری ہے اس سے ثابت ہے کہ ریاست میں عسکری اور سول انتظامیہ کو بلوچستان کے عوام کا احساس نہیں وہ محض خانہ پری کی حد تک جرگہ کرتے اور لوگوں کو یقین دہانی کراتے ہیں، گلزار دوست کے ساتھ یکجہتی کے بعد عوام نے انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد سڑک کھول کر ٹریفک بحال کردی۔


