چیف سیکرٹری بلوچستان کا دورہ دکی، سول ہسپتال کے ڈاکٹروں کی غیر حاضری پر برہم

دکی: چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا ایک روزہ دورے پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے دکی پہنچے۔چیف سیکرٹری کے ہمراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد ہاشم غلزئی سیکرٹری انرجی زبیر خان اور سیکرٹری زراعت امید علی کھوکر بھی ہمراہ تھے۔دکی پہنچنے پر کمشنر لورالائی ڈویژن بشیر خان بازئی اور ڈپٹی کمشنر دکی عظیم کاکڑ نے انکا استقبال کیا۔ڈپٹی کمشنر آفس پہنچنے پر پولیس کے چاک وچوبند دستے نے انہیں سلامی دی جسکے بعد انہیں ڈپٹی کمشنر آفس میں تمام محکموں کے ضلعی سربراہان نے اپنے اپنے محکموں کے حوالے سے انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔بعد ازاں چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا نے ڈپٹی کمشنر ہاس میں منعقدہ کھلی کچہری میں شرکت کرکے عوامی مسائل سنے۔ال پارٹیز دکی بچاؤ تحریک،دکی پریس کلب سیاسی اور سماجی رہنماں اور قبائلی عمائدین نے انہیں علیحدہ علیحدہ مسائل بیان کئے جبکہ ترہ کئی قومی مومنٹ کی جانب سے چیف سیکرٹری اور دیگر سیکرٹریز کو علاقائی رسم کے مطابق پگڑی پہنائی گئی۔چیف سیکرٹری نے اکثر مسائل کو حل کرنے کے لئے موقع پر احکامات جاری کئے۔ڈی ایچ او دکی کے گاڑی پر ڈپٹی ڈی ایچ او کی جانب سے قبضے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے فوری طور پر ڈی سی دکی کو ڈپٹی ڈی ایچ او سے گاڑی لیکر ڈپٹی ڈی ایچ او کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ سول ہسپتال کے ڈاکٹروں کی غیر حاضری پر چیف سیکرٹری برہم ہوگئے۔انہوں نے سیکرٹری صحت کو تمام غیر حاضر ڈاکٹر معطل کرنے کا حکم جاری کیااور موقع پر سیکرٹری صحت کو فون کرکے ہسپتال کے لئے ایک ایمبولنس فراہم کرنے اور فوری طور پر لیڈی ڈاکٹر اور دیگر ڈاکٹر تعینات کرنے کا حکم جاری کیا۔انہوں نے دکی تا ہرنائی براستہ اکرو غازی روڈ منظور کرنے کا اعلان کیاجبکہ پبلک لائیبریری کے لئے دو لاکھ روپے کتابوں کی خریداری کے لئے دینے کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے زراعت کے شعبے میں دکی کو ڈی سے اے کٹیگری میں شامل کرنے اور صحت کے شعبے میں دکی کو ڈی کٹیگری سے سی کٹیگری میں شامل کرنے کا اعلان کرکے فوری طور پر نوٹیفیکشن جاری کرنے کے لئے متعلقہ سیکرٹریز کو احکامات جاری کئے۔کھلی کچہری اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دکی زرعی علاقہ ہے زراعت کی مد میں یہاں کوئی کام نہیں ہوا ہے۔زراعت کے دو ارب روپے میں سے صوبائی فنڈز سے یہاں بیس کروڑ روپے خرچ ہورہے ہیں جوکہ دکی کے ساتھ ناانصافی ہے ہم یہاں عوامی مسائل حل کرنے کے لئے آئے ہیں۔صوبہ بھر میں صوبائی حکومت نے ضلعی انتظامیہ اور آل پارٹیز کی مشترکہ کمیٹیاں قائم کی ہیں۔کمیٹیز کا مقصد ضلعی سطح پرضلعی انتظامیہ کو عوامی مسائل حل کرنے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی کمیٹیاں مسائل اور مسنگ پرسنز کے حوالے سے بھی تفتیش کرسکتی ہیں اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کو اپنی تجاویز پیش کرسکتی ہیں۔ہر ہفتے باقاعدگی سے عوامی مسائل کے حل کے لئے ان کمیٹیز کا اجلاس ہوگا۔انہوں نے کہا کول مائنز کے ٹیکسیز دکی پر خرچ ہونے چائیے۔لوکل سطح پر فی ٹن ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ملکر تجاویز دیں۔ہم انہیں عملی شکل دیکر اس پر کام شروع کرینگیہم ضلعی افیسران کے۔لئے رہائشی کوارٹر تعمیر کرینگے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کے لئے میں دکی کے زمینداروں کو پنجاب کے علاقے ماموں کانجن بھیجنے کا اعلان کرتا ہوں تاکہ ہمارے زمیندار بھی نے نئے دریافت ہونے والے طریقے سیکھ سکیں۔ہم زراعت کو سولر سسٹم سے چلانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے اس معاملے کو اٹھائینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں