ماضی کے مقابلے میں ملک میں ڈیزل اور پیٹرول کا بڑا ذخیرہ ہے، حماد اظہر
اسلام آباد (انتخاب نیوز) ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے صرف 5 دن کے اسٹاک کی خبروں پر حکومتی ردعمل آگیا ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ کچھ اخبارات نے خبر چلائی کہ صرف 5 دن کا سٹاک رہ گیا ہے ، یہ خبر جعلی اور حقائق کے منافی ہے ۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت ایک ماہ سے زیادہ کا ڈیزل اور پیٹرول کا ذخیرہ ہے اور یہ کئی گزشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں یہ سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔دوسری طرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا طریقہ کار غیر پائیدار قرار دیتے ہوئے ملک میں تیل بحران کا امکان ظاہر کر دیا ، اوگر اور پٹرولیم ڈویژن کے درمیان ہونے والے اجلاس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز نے کہا کہ مہنگی پٹرولیم مصنوعات خرید کر سستی کیسے دیں؟ مہنگے اور سستے کے بیچ کا فرق کب اور کون دے گا؟ کوئی گارنٹی تو دی جائے۔میڈیا رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ آئل مارکیٹمنگ کمپنیاں اور ریفارئنریز قیمتوں کا فرق برداشت کر لیں بعد میں ادائیگی کر دیں گے، حکومت پرائس ایڈجسمنٹ میکانزم تیار کر رہی ہے ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کے معاملے پر تیل کمپنیوں اور ریفائنریز نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں پٹرول سستا کرنے کا اعلان کیا تھا ، انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے، بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 5 روپے کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اگلے بجٹ تک پٹرولیم مصنوعات اوربجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا ، کیوں کہ مجھے پتا ہے یہ مشکل حالات ہیں، کبھی پلوامہ، کبھی کورونا اور اب یوکرین کا مسئلہ آگیا ، حکومت ہرماہ 70 ارب کی سبسڈی دیتی ہے، اگر ہم سبسڈی نہ دیں تو پٹرول کی قیمت 220 روپے تک ہو جائے گی ، پاکستان میں آج بھی پٹرول، ڈیزل دنیا کے 25 ممالک کی نسبت کم قیمت ہے،بھارت میں 260 روپے لیٹر پٹرول ہے، اپوزیشن والے کہتے ہیں پٹرول مہنگا ہوگیا اگر ان کے پاس کوئی حل ہے تو بتا دیں۔


