خضدار، راشن تقسیم کا عمل سیاست کی نذرہو گیا

خضدار (نماٸندہ خصوصی) احساس ایمرجنسی پروگرام کے راشن سیاست کا نذر، راشن مستحقین کے بجاٸے باثرافراد میں تقسیم، اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے میں مشہور ڈی سی باثر افراد کےسامنے ڈھیر، عوامی حلقے طفیل بلوچ سے نالاں، ڈپٹی کمشنر خضدار عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے کورونا متاثرین کےلیے احساس پروگرام کے تحت راشن دینے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کے لیے ہر ضلع کو راشن کی خریداری کے لیے رقم جاری کی گئی لیکن ضلع خضدار میں احساس پروگرام کے تحت ملنے والا راشن سیاست کا نذر ہوگیا جہاں راشن کا سامان سیاسی لوگوں کے کہنے پر بااثر لوگوں میں تقسیم ہونے لگا ہیں، مستحقین کے بجاٸے من پسند افراد کو رات کے اندھیرے میں بلاکر راشن دیاجانے لگا۔ خضدار میں حالیہ تعینات ہونے والا ڈپٹی کمشنر بھی اس ضمن بے بس دیکھاٸی دےرہاہے۔ سیدعبدالوحید شاہ کے بعد طفیل بلوچ سے ہی عوام کے توقعات وابستہ تھے کیونکہ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے والا شخص نہیں اور غریب کو ان کے حق دینے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑ تھا لیکن یہ تمام باتیں، باتیں ہی ثابت ہوگٸی اور طفیل بلوچ تین ماہ میں اب تک کوٸی خاصا کردار ادا نہ کرسکا، غریب طبقات کو انصاف فراہم کرنا دور کی بات تو وہ سرکاری راشن کی تقسیم میں بھی انصاف کو قاٸم نہ کرسکا اور سیاسی لوگوں کے سامنے ریت کی دیوار بن کر ڈھیر ہوگیا۔ "نماٸندہ انتخاب” کو انتظامیہ سے جڑے ذراٸع نے بتایا کہ چند دن قبل ایم پی اے خضدار اور حکمران جماعت کا ایک رہنما آفس کر انتظامیہ پر دباٶ ڈالنے لگا کہ ان کہنے پر ہی راشن تقسیم ہوگی، وہ جن کا نام لسٹ میں ڈالیں گے تو صرف انہیں راشن دیا جاٸیگا جس کے بعد طے شدہ منصوبہ کے مطابق انتظامیہ نے راشن کی تقسیم شروع کی اور مستحقین کے بجاٸے بااثر افراد کو بولاکر رات کے اندھیرے میں ان پر راشن تقسیم کیاجارہا


