خیالوں کی دنیا۔ریکوڈک کی نیلامی کا حقیقی واقعہ

تحریر: انورساجدی
پاکستان میں اس وقت ایک طرف سانڈوں کی اور دوسری طرف بھانڈوں کی لڑائی ہے بھانڈوں کی لڑائی کا تو ایک ہفتہ تک فیصلہ سامنے آجائیگا لیکن دوسری لڑائی کا نتیجہ نکلے گا تو رواں سال مگر کافی وقت لگے گا۔
ہمارا علاقہ چونکہ کبھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا اس لئے وہاں کے اور یہاں کے کلچر میں کوئی تعلق نہیں تھا مثال کے طور پر پنجاب میں بھانڈوں کے کرتب کوباقاعدہ پیشہ اور فن تسلیم کیاجاتا تھا گزرے وقتوں میں جب سینما فلمیں اور وڈیو کا وجود نہیں تھا تو لوگ بڑی تعداد میں اکٹھے ہوکر بھانڈوں کی جگت اور کرتب دیکھتے تھے لیکن جدید دور میں یہ فن بھی اپنی موت آپ مرچکا غالباً پاکستانی پنجاب کے آخری باقاعدہ بھانڈ ”بھامنیر“ تھے چند سال قبل پنجابی قوم پرست صحافی سہیل وڑائچ نے ایک دن جیو کے ساتھ پروگرام میں بھامنیر کی زندگی کا احاطہ کیا تھا۔
سہیل وڑائچ کا کمال ہے کہ جب کوئی سنجیدہ موضوع نہ ملے تو وہ خوردبین لگالگاکر اپناموضوع پنجاب کے طول وعرض میں تلاش کرتے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک حسینہ پر پروگرام پیش کیا جو ڈھول بجانے کا پیشہ اختیار کرچکی ہیں اس خاتون کا نام ہے اریشمہ مریم جب وڑائچ صاحب یہ پروگرام پیش کررہے تھے تو اسلام آباد میں مقیم بلوچستان کے طلبا اپنے ایک ساتھی کی گمشدگی پر پریس کلب کے سامنے احتجاج کررہے تھے اس روز پولیس قہر بن کر پرامن طلبا پر ٹوٹ پڑی تھی طاقت کے استعمال کے بعد شرکاء کیخلاف بغاوت کے الزامات پرمقدمہ بھی درج کیا گیا تھا اسی دوران اسلام آباد سے بہت دور کیچ کے علاقہ سے ایک سوشل ایکٹیویسٹ گلزار دوست نے پابہ برہنہ احتجاجی لانگ مارچ شروع کیا تھا اور اس کے ننگے پیروں میں آبلے پڑے تھے لیکن پاکستان کی نام نہاد قومی میڈیا نے اس یک رکنی مارچ کی کوئی کوریج نہیں کی گلزار دوست چند روز قبل22دن کا سفر کرکے کوئٹہ پہنچ چکے ہیں اور مسنگ پرسنز کا کیمپ جوائن کرچکے ہیں۔پاکستانی میڈیا کا رویہ انتہائی معتصبانہ اور بے رحمانہ ایک طرف وہ اپنے بھانڈوں اور مزاحیہ فنکاروں پر طویل پروگرام بناکر دکھاتا ہے دوسری جانب بلوچستان فاٹا اور سندھ کے افتادگان خاک کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ ان کی زندگی اور موت کے مسائل کو اپنے اسکریٹوں پر پیش کرے۔
عجیب رویہ ہے اگر بلوچستان کے سماجی کارکن اور سیاسی رہنما اپنے بنیادی انسانی حقوق کیلئے پر امن جدوجہد کا راستہ اختیار کریں تو آپ ان کی آئینی اور پرامن جدوجہد کا بلیک آؤٹ کرتے ہیں جبکہ جب وہ تنگ آکر پہاڑوں کا رخ کریں تو انہیں ملک دشمنی بغاوت اور غداری کا مرتکب قرار دیتے ہیں۔
مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے بعینہ یہی سلوک بنگال کے عوام سے کیاتھا۔
23مارچ1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسہ میں جس شخص نے قرارداد لاہور پیش کی تھی ان کا نام تھا مولوی اے کے فضل الحق وہ بنگال کے بہت بڑے لیڈر تھے اور ان کردار ناقابل فراموش تھا تاہم جب انہوں نے اردو کوسرکاری زبان قراردینے کے فیصلے کیخلاف احتجاج کیا تو انہیں غدارقراردیا گیا جب کہ قرارداد پیش کرنے کے بعد انہیں شیر بنگال کا لقب دیا گیا تھا مسلم لیگ سے علیحدگی کے بعد انہوں نے جگتو فرنٹ بنایا تھا اور لیگ کو نکال باہر کرکے اپنی حکومت قائم کی تھی۔
مولوی فضل الحق نے جو قرارداد پیش کی تھی اس کا اصل نام ہے قرار دادلاہور لیکن1960ء کے بعد ایوب خان نے اسے قرارداد پاکستان کا نام دیا نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے23مارچ کو قومی تعطیل بھی قرار دیا تاکہ انڈیا کے یوم جمہوریہ کا مقابلہ کیاجاسکے ایک اور غلط پروپیگنڈہ یہ ہے کہ اس قرار داد کے ذریعے قیام پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ قرارداد میں ہندوستان کی ان ریاستوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی ان پر مشتمل آزاد ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا مسلم لیگ نے1946ء میں مسلمانوں کیلئے علیحدہ ملک پاکستان کا مطالبہ کیا تھا۔
مغربی پاکستان کی ملٹری وسول بیوروکریسی اور نام نہاد اشرافیہ نے بنگالیوں کے ساتھ وہ سلوک کیا اس کا پورا ریکارڈ کتابوں رپورٹوں اور بنیادی حقوق کی عالمی تنظیموں کے پاس موجود ہے بنگالیوں کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے مسلم لیگ ڈھاکہ میں بنائی اور علیحدہ ملک کی تحریک بھی چلائی جب بنگالی ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کررہے تھے تو مغربی پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کی اشرافیہ انگریزوں کی سرپرستی میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی تھی قیام پاکستان سے قبل جتنے بھی انتخابات ہوئے مسلم لیگ کو پنجاب اور سرحد میں کوئی پذیرائی نہیں ملی عجیب بات ہے کہ قیام پاکستان کی تحریک یوپی اور سی پی میں چلی لیکن ریاست شمال مشرقی اور شمال مغربی علاقوں میں وقوع پذیر ہوگئی یہ چونکہ ایک بڑا اور طویل موضوع ہے اس لئے اس پر جانے کی ضرورت نہیں لیکن اس بات پر غور کی ضرورت ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے جعلی تاریخ اور من گھڑت کہانیوں کے ذریعے نئی نسل کو صرف جھوٹ پڑھایا اور سکھایا ہے جس کا ایک بڑا ثبوت23مارچ کا یوم پاکستان ہے بانی پاکستان اور ان کے جانشین لیاقت علی خان نے کبھی یہ دن نہیں منایا ایک جھوٹ1965ء کی جنگ میں فتح کا ہے حالانکہ یہ 17روزہ جنگ ہارجیت کے بغیر ختم ہوگئی تھی پاکستانی عوام کو حقائق سے کس قدر دور رکھا گیا ہے اس کا اندازہ سقوط مشرقی پاکستان کے عظیم المیہ کو چھپانے سے لگایا جاسکتا ہے ہمارے حکمران جنگ1965ء کے کارنامے تو بتاتے ہیں لیکن16دسمبر1971ء کے بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں یہ بات بھی شواہد سے ثابت ہے کہ نظریہ پاکستان نام کی کسی چیز کا وجود نہیں تھا یہ جھوٹ بھی مغربی پاکستان کی اشرافیہ نے تراشا تھا جس کو بنیاد بناکر حب الوطنی اور غداری کی فیکٹریاں قائم کی گئیں حتیٰ کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے حیدرآباد سازش کیس قائم کی تو اس کا بڑا الزام یہی تھا کہ نیپ کے لیڈر نظریہ پاکستان کے مخالف تھے مغربی پاکستان کی اشرافیہ نے ہراس چیز کو نیست ونابود کردیا جو انکے نظریہ کو جھٹلاتا تھا مثال کے طور پر لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی گجر تھے لیکن انکا ایجاد کردہ لفظ تو مملکت کا نام بنادیا لیکن بے چارے موجد کو ایک آنہ کی بھی اہمیت نہیں دی بلکہ یہ کہا گیا کہ وہ مسلمان نہیں احمدی تھے ان کی لاش بھی نہیں لائی گئی جو کیمبرج میں دفن ہے۔
احمدی تو سرظفر اللہ خان بھی تھے بانی پاکستان نے انہیں اپنا پہلا وزیرخارجہ مقرر کیا جبکہ ان کے وزیر قانون ایک ہندو جوگندر ناتھ منڈل تھے اگریہاں پر اسلامی نظام کا نفاذ مقصود تھا تو ایک ہندو کو وزیرقانون کیسے بنایا جاتا مقام افسوس ہے کہ بانی پاکستان نے دستور ساز اسمبلی سے جو خطاب کیا گیا اسے بھی پریس میں شائع نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ اس میں انہوں نے سیکولر ازم کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ تمام لوگ اپنے مذاہب پر عمل درآمد میں آزاد ہیں لیکن نظریہ پاکستان کی تخلیق کے بعد اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جارہا ہے اس کی مثال جدید ہندوستان میں تو دکھائی دیتی ہے اور کسی ملک میں نہیں۔
چند ہفتہ قبل ہندوستان کی ایک طالبہ نے انتہا پسندوں کو چیلنج کرتے ہوئے نقاب کے مسئلہ پر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا پاکستانی میڈیا نے اس کی جرأت پر آسمان سرپراٹھالیاتھا۔
لیکن گھوٹکی کے پیر میاں مٹھو نے وہاں کی ہندو آبادی کی خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا تھا مجال ہے کہ جو پاکستانی پریس اس کے بارے میں ایک لفظ کہے مٹھو نے جہاں سینکڑوں کمسن ہندو لڑکیوں کو مشرف بہ سلام کرکے ان کی جبری شادیاں کروائی تھیں تو وہاں انہوں نے ایک 13سالہ لڑکی رنکل کماری کی شادی اپنے ڈرائیور سے کروائی تھی۔
نہ جانے رنکل کماری آج کل کس حالت میں ہوگی لیکن پوجا کماری کا واقعہ تو حال ہی کا ہے اسے ایک مسلمان نوجوان نے اغوا کرکے زبردستی شادی کی کوشش کی تو اس نے مزاحمت کرکے مرجانے کو ترجیح دی۔
تھرپارکر کے کئی واقعات اقلیتوں پر مظالم کی زندہ کہانیاں ہیں۔
23مارچ عظیم حریت پسند بھگت سنگھ راج گرو اور سکھ دیو کی پھانسی کا دن ہے لیکن ہماری ریاست کایہ حال ہے کہ چند سال قبل جب پنجاب اسمبلی نے لاہور کی ایک سڑک کانام بھگت سنگھ پر رکھنے کی منظوری دی تو قبلہ حافظ سعید نے اعلان کیا کہ اگر سڑک کا نام رکھا گیا تو وہ پنجاب اسمبلی کو بم سے اڑادیں گے۔یہ بات ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب بھگت سندھ اور ساتھیوں کو پھانسی کا وقت طے ہوا تو انگریز مجسٹریٹ نے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط سے انکار کردیا جبکہ ایک مسلمان مجسٹریٹ میاں احمد رضا قصوری نے اس پر دستخط کردیئے یہ کم بخت موجودہ احمد رضا قصوری کے دادا تھے انگریزوں نے اس کارکردگی پر خوش ہوکر انہیں نواب کا خطاب دیا تھا جس پر بھٹو پھانسی فہیم احمد رضا قصوری فخر کرتے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد جو ہوا سو ہوا لیکن بلوچستان کے ساتھ وہ سلوک ہورہا ہے جس کی نظیر جدید کالونی نظام میں موجود نہیں سب سے پہلے بلوچستان کے سب سے بڑے قدرتی وسیلہ سوئی گیس پر قبضہ کیا گیا بعدازاں یکے بعد دیگر بلوچستان کووسائل سے محروم کیا گیا۔چند سال پہلے بلوچستان کے اہم ترین وسیلہ گوادر پر قبضہ کیا گیا اور وہاں پر ایک پورٹ بناکر چین کے حوالے کیا گیا سی پیک کابہانہ بناکر گوادر کی زمینوں کو ریوڑیوں کی طرح تقسیم کیاگیا۔
حال ہی میں ریکوڈک جو کہ بلوچستان کا سب سے بڑا معدنی وسیلہ ہے نہایت پراسرار طریقے سے کینیڈا کی بیرک گولڈ نامی کمپنی کے حوالے کیا گیا یہ سودا کیا ہے اس کی اصل حقیقت کیا ہے اس کی بنیادی مالیت کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا دستخطی تقریب میں صوبائی وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو اعزاز بخشا گیا کہ وہ دستخط کے وقت وزیراعظم کی صف میں کھڑے رہیں۔
ریکوڈک کے مسئلہ پر ڈاکٹر مالک بلوچ نے سوشل میڈیا پر تو ایک بیان دیا ہے لیکن عملی طور پر کوئی احتجاج کوئی پروگرام سامنے نہیں آیا اور تو اور بلوچستان اسمبلی میں بلبل کی طرح بولنے والے ثنا بلوچ بھی خاموش ہیں اعداد وشمار کے ڈھیر لگانے والے اور پراسرار معاملات کا کھوج لگانے والے یہ رکن پراسرار طور پر خاموش ہیں ان کا فرض تھا کہ وہ اپنے عوام کو تاریخ کے اس سب سے بڑے سودے کے بارے میں آگاہ کرتے کم از کم یہ کھوج تو لگاتے کہ بیرک گولڈ کو کتنے ہزار کلومیٹر دیئے گئے ہیں جبکہ بنیادی طور پر اسے 20کلو میٹر کا ایک بلاک لیز پر دیا گیا تھا کہیں ایسا نہ ہو کہ 500ارب ڈالر کا خزانہ صرف 10ارب ڈالر میں نیلام کردیاگیا ہو۔
پاکستانی میڈیا حقائق چھپارہا ہے
اور ریکوڈک کی نیلامی کو ایک بڑی
کامیابی سے تعبیر کررہا ہے یہ میڈیا
ہمیشہ بلوچستان کاایک اور رخ دکھاتا
ہے اور انسانی مظالم پر خاموش رہتا ہے
٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں