خطے کا امن افغانستان میں استحکام سے جڑا ہوا ہے، شاہ محمود قریشی

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خطے کا امن و استحکام افغانستان میں استحکام سے جڑا ہوا ہے،تجارت اور روابط کے فروغ، سرحدوں پر سہولت کاری اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف کامیابی کےلئے ہماری تمام کوششوں کی کامیابی افغانستان میں استحکام سے وابستہ ہے۔ بدھ کو چین میں منعقدہ سہ فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ میں سب سے پہلے آج کی اس سہ فریقی میٹنگ کا اہتمام کرنے پر اسٹیٹ کونسلر و وزیر خارجہ وانگی یی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری یہ میٹنگ کئی وجوہات کی بنا پر اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان اور چین کو افغان حکام کے ساتھ اپنے نقطہ نظر کا اشتراک کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ افغان فریق کو سننے کا بھی موقع بہم پہنچائی ہے، یہ اجلاس پاکستان اور چین دونوں کو افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزارتی اجلاس کے لیے رابطہ کاری میں مدد دے گا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ میں خطے کے لیے ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال افغانستان کے حوالے سے اسٹیٹ کونسلر وانگ یی کے ریمارکس کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کی واپسی کا پاکستان سے زیادہ کوئی ملک خواہش مند نہیں، خطے کا امن و استحکام افغانستان میں استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ انہورںے کہاکہ تجارت اور روابط کے فروغ، سرحدوں پر سہولت کاری اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف کامیابی کےلئے ہماری تمام کوششیں اگر افغانستان میں استحکام نہیں لا سکتیں تو اسے کامیابی نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں امن کے حصول کے لیے، دو طرفہ اور اہم علاقائی ممالک کی حمایت سے اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ افغانستان میں انسانی صورتحال پر او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا غیر معمولی اجلاس افغانستان کی حمایت میں بین الاقوامی برادری کو جمع کرنے کا ایک کامیاب موقع تھا،افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا کل ہونے والا اجلاس افغانستان پر یکساں علاقائی نقطہ نظر کےلئے انتہائی اہم ہے،ہم بین الاقوامی برادری خصوصاً پڑوسیوں کی طرف سے، افغانستان کو دی جانے والی حمایت کو سراہتے ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں افغان حکام اور عالمی برادری دونوں سے بہت کچھ درکار ہے،بین الاقوامی برادری روابط کے اگلے مرحلے میں افغان حکام کی طرف دیکھ رہی ہے،افغانستان میں انسانی بحران اور معاشی تباہی تاحال ختم نہیں ہوئی۔شدت پسندی کا خطرہ اب پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ان حالات میں لڑکیوں کے سکولوں سے متعلق افغان حکام کے حالیہ فیصلے پر عالمی برادری نے کی تشویش بے جا نہیں،ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حکام اپنے پہلے کیے گئے اعلانات پر عمل درآمد کریں گے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ روابط کو مضبوط کریں گے۔میں افغان وفد کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت میں آواز بلند کرتا رہے گا۔پاکستان، بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیتا رہے گا کہ وہ اس میں اپنا کردار ادا کرتی رہے اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے اضافی طریقوں پر غور کرے۔چین کے ساتھ مل کر ہم خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ہمیں امید ہے کہ افغان حکام ایک پرامن، دوستانہ اور مستحکم افغانستان کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشیں بروئے کار لاتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں