آئین کا آرٹیکل5کیا ہے؟
3مارچ کو قومی اسمبلی میں قراردادِ عدم اعتماد پر کوئی بحث کئے بغیر قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے وزیر قانون فواد چوہدری کی جانب سے پیش کردہ دلائل کو من و عن درست تسلیم کرتے ہوئے اپنی رولنگ دے دی کہ وزیرِ اعظم کے خلاف پیش کی گئی قراردادِ عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 5کے مطابق مسترد کی جاتی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی اجلاس ملتوی کردیا اور اٹھ کر چلے گئے۔بیشترقانونی ماہرین ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو درست نہیں سمجھتے، ان کے خیال میں آئین کے آرٹیکل5 کا تحریک عدم اعتماد سے کوئی تعلق نہیں،اور اس کو پاکستانی سفیر کے بھیجے گئے مراسلے سے نتھی کرنا بلا جواز ہے۔
چونکہ اس قسم کی رولنگ پہلی مرتبہ دی گئی تھی اس لئے تقریباً تمام مکاتبِ فکر اس حوالے سے حیران تھے مگر حکومت بضد تھی کہ اس نے آئین کی روح اور الفاظ کے مطابق درست اقدامات کئے ہیں۔حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر اتوار کا دن ہونے کے باوجود چیف جسٹس پاکستان بھی عدالت پہنچ گئے اور اس مقدمے کی سماعت کے لئے ایک پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا جس نے گزشتہ روز ایک بجے سے۔۔ بجے تک سماعت کی۔ گا۔عدالت میں اٹارنی جنرل پاکستان اور دیگر وکلاء بھی عدالت کی معاونت کے لئے موجود تھے۔اپوزیشن بھی پانچ رکنی بینچ کے روبرو اپنے وکلاء کے ساتھ حاضر تھی۔فاروق ایچ نائک نے اپنا بیان مکمل کیا جبکہ میاں رضا ربانی اور دیگرآج اپنا بیان دیں گے۔فیصلہ عجلت میں نہیں دیا جائے گا۔ہر پہلو سے جانچ کر عدلیہ اپنا فیصلہ دے گی۔لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آئین ساز ادارہ ایک بار پھر آئین کی تشریح کے لئے بطور سائل عدلیہ کے روبرو کھڑا ہے جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ ایک حد تک اس معاملے کو دیکھ سکتی ہے،یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ اسپیکر کی رولنگ کو غیر قانونی قرار دینا ان کے بس کی بات نہیں۔بادیئ النظر میں چیف جسٹس کی دلیل میں وزن ہے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ آئین کی زبان اتنی سادہ اور عام فہم ہوتی کہ آئین ساز ادارے کے اراکین کم از کم خود تو سمجھ لیتے۔انہیں ہر آرٹیکل کی تشریح کے لئے بار بار عدالت سے تشریح کی ضرورت نہ ہوتی۔اراکین قومی اسمبلی کو اپنے مقام، مرتبے اور ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیئے۔جب وہ عدلیہ سے تشریح کی درخواست کرتے ہیں تو عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ آئین ساز ادارے کے اراکین کو اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کا علم نہیں۔لیکن اتنے ذمہ دار ادارے کی حالت زار کے ذمہ دار بھی آئین ساز ادارے کے اراکین خود ہیں، انہوں نے ادارے کی رکنیت کے لئے بکم سے کم مقرر کردہ گریجویشن کی شرط بھی ختم کردی ہے، اس لئے کہ ایوان کے چھان بین پر بعض اراکین کی سند جعلی نکلی،جبکہ عام تأثر یہ ہے کہ بیشتر اراکین کی اسناد جعلی ہیں۔آئین ساز ادارے کو چاہیئے کہ آئی ساز ادارے کی رکنیت کے لئے کم از کم تعلیم پوسٹ گرجویٹ ہونا مقرر کی جائے۔ جسے آئین ساز ادارے کا رکن بننے کا شوق ہے وہ مطلوبہ تعلیم حاصل کرے اور اس کی سند جعلی نہیں ہونی چاہیئے۔جس رکن اسمبلی کی سند جعلی ہواسے اور جعلی سند جاری کرنے والے ادارے کے افسران کو بھی سخت ترین سزا(عمر قید اور بھاری جرمانہ) دی جائے تاکہ جعلی سند حاصل کرنے اور جاری کرنے کا سلسلہ روکا جا سکے۔اس کے ساتھ اراکین اسمبلی کو اپنا ووٹ بیچنے کی سختی سے ممانعت کو بھی آئین کا حصہ بنایاجائے۔اس کی رقم وصولی کی ویڈیو میڈیا پر آتے ہی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ ایکشن لے اور پہلی یا دوسری سماعت پر(ایک ہفتے کے دوران ہی)لین دین میں ملوث رکن اسمبلی کی تاحیات نااہلی اور انتخابی اخراجات کے مساوی جرمانہ کی سزا سنا دے۔صرف ہارس ٹریڈنگ کہنا کافی نہیں۔انتخابی اخراجات کی حد فرضی اعدادو شمار پر مبنی ہرگز تسلیم نہ کی جائے، عملاً جتنے اخراجات ہوں اس کا تعین کیا جائے۔الیکشن آفسز کاکرایہ، فرنیچر، بجلی، دفتر میں چائے پانی،زیر استعمال گاڑیوں، پیٹرول اور ہر ووٹر کے گھر تک اس کا ووٹ نمبر اور پولنگ اسٹیشن کی معلومات والاکارڈ پہنچانے،پولنگ اسٹیشن کے باہر کیمپ لگانے اور پولنگ اسٹیشن کے اندر بیٹھے کارکنوں کے کھانے پینے سمیت تمام اخراجات کو شامل کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے کہ بکنے والے وہی مخصوص چہرے کیوں ہوتے ہیں جو بار بار اپنے ووٹ کے بھاری قیمت وصول کرتے ہیں؟ایسے اراکین کو زیادہ سزا دی جائے۔ملک کی باگ ڈور ایسے لالچی اور خود غرض افراد کو نہیں سونپی جا سکتی۔پانچ رکنی بینچ اس پہلو سے بھی جائزہ لے کہ جب 2018میں پی ٹی آئی کو اقتدار ملا اس وقت کتنا غیر ملکی قرضہ فوری طور پر ادا کرنا تھا، اور رواں سال کا مالی خسارہ کتنا تھا؟ ملکی خزانے میں کتنا زرمبادلہ موجود تھا؟ ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچانے والوں کا تعین بھی کیا جائے۔لوٹ مار کے تمام دروازے بند کئے جائیں۔یہ عوم کی ترقی، خوشحالی اور بھوک اور افلاس سے چھٹکارے کے ساتھ ملک کی سلامتی کا سوال ہے۔صرف ایک سادہ سا سوال نہیں۔پارلیمنٹ اور دیگر آئینی ادارے اپنی ذمہ داری سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔اگر حکومت نے امریکی دھمکی کے جعلی مراسلے پر اپنی مہم کی بنیاد رکھی ہے تب بھی اس کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔پانچ رکنی بینچ نے اس بارے میں متعدد سوالات اٹھائے ہیں، لگتا ہے کہ عدلیہ اپنے فیصلے میں کوئی پہلو تشنہ نہیں رہنے دے گی۔یاد رہے روز روز ایسے سوال نہیں اٹھائے جا سکتے اور نہ ہی ہر دوسرے روز ایک نیا فیصلہ سناکر ملکی سیاست کا قبلہ تبدیل کرنا مفید ہو سکتا ہے۔موجودہ تناظر میں یہ فیصلہ تمام سوالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مفصل اور دیرپا نتائج کا حامل ہوناچاہیئے،تاکہ سنگ میل کے طور پر دیر تک رہنمائی کرتارہے گا۔آئین ساز ادارے کے اراکین کو اس امر کا بھی پابند کیا جائے کہ آئین سازی کرتے وقت کوئی ابہام اور سقم نہ چھوڑیں۔تاکہ اسپیکر یا دیگر اراکین پارلیمنٹ کوعدلیہ کے سامنے سائل کے طور آنے یاعدلیہ کی جانب سے جواب دہی کے لئے بلائے جانے کی ضرورت نہ رہے۔ عام آدمی کی خواہش ہے کہ اس بار اس تنازعے کو اس طرح حل کیا جائے کہ آئندہ ایسے مناظر دیکھنے کو نہ ملیں۔آئین کے آرٹیکل 5کی تشریح کرنا بھی ضروری ہے،نیز یہ بھی واضح کیا جانا چاہیئے کہ اس کا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والوں سے کوئی تعلق تھا؟ اگر تھا تو اس کی نوعیت کیا تھی؟سنگین؟ یا معمولی؟ اور نظر انداز کئے جانے کے قابل؟


