نوشکی،خاران، دالبندین،پنجگور سمیت بلوچستان بھر میں بی این پی کی کال پر مہنگائی کیخلاف احتجاجی مظاہرے
نوشکی؛بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کال پر غیر آئینی اقدامات جمہوری اداروں کی بے توقیری اور مہنگائی کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ سے بی این پی کے ضلعی صدر میر بہادر خان مینگل سی سی ممبر میر خورشید جمالدینی مرکزی پروفیشنل سیکرٹری نزیر بلوچ صاحب خان مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا آئین ساز ادارے میں آئین کی خلاف وزی کی جارہی ہے بلوچستان کے سیاسی اکابرین کو بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی بادش میں غداری کے مقدمات میں سزائے دی جاتی ہے لیکن دوسری جانب آئین کے خلاف وزی کے مرتکب سیاست دانوں اور مخصوص ٹولہ کے خلاف قانون خاموش ہے مقررین نے کہا امریکہ نے افغانستان میں اپنے مفادات کے لیے افغانستان میں جو ظلم زیادتیاں کیں تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ان غیر آئینی اقدامات میں ہمارے حکمرانوں کی حمایت امریکہ کو حاصل تھی بلوچستان میں ہزاروں کی تعداد نوجوان برسوں سے لاپتہ ہیں مقررین نے کہا حکمرانوں اپنے اقتدار کو وسعت دینے کے آئین اور جمہوری اقدار کی پامالی کے مرتکب ہو رہے ہیں سپریم کورٹ غیر آئینی اقدامات کا فوری نوٹس لیکر ملک مزید تباہی اور بدنامی سے بچائیں مقررین نے کہا میں انارکی پیدا کرکے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بیروزگاری عروج پر ہے ڈپٹی اسپیکر اسٹے پر چل رہے ہے کئی عرصہ گزرنے کے باوجود بھی سیٹ پراجماں ہونا بھی سوالیہ نشان ہے امن امان کی صورتحال بھی مخدوش ہے پی ڈی ایم کے کال پر کسی بھی احتجاج سے دریغ نہیں کرینگے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی غیرآئینی رولنگ وزیر اعظم کی جانب سے اسمبلیوں کی تحلیل و صدر مملکت کے غیرآئینی فیصلوں کے خلاف بی این پی خاران کے زیر اہتمام ضلعی آرگنائزر حاجی غلام حسین بلوچ کی قیادت میں پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ سے ایک احتجاجی ریلی برآمد ہوئی ریلی کے شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈز آٹھا رکھے تھے جن پر پی ٹی آئی کی جانب سے غیرآئینی اقدامات کے خلاف کلمات درج تھے ریلی کے شرکا نے ڈپٹی اسپیکر کی غیر آئینی رولنگ ملک میں غیرآئینی فیصلوں اور وزیر اعظم کا اسمبلی تحلیل کرنے کے خلاف نعرہ بازی کی گئی ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی آرگنائزر حاجی غلام حسین بلوچ اراکین آرگنائزنگ کمیٹی ندیم آحمد سیاپاد حاجی اصغر علی ملنگزئی میر غلام دستگیر مینگل میر شاہ حسین مینگل میر رحمت یلائنزئی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے عمران خان کی کرسی کو بچانے کے لیئے غیر آئینی رولنگ دیکر آئین سے روگردانی کی جبکہ وزیر اعظم نے اسمبلیاں تحلیل اور صدر مملکت نے غیر آئینی فیصلے کرکے ملک کو تبائی کے دہانے پر پہنچا کر میدان سیاست سے راہ فرار اختیار کی جسکا بی این پی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے انھوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی عروج پر ہے عوام عمران خان اور انکے نااہل ٹیم سے عاجز آچکے ہیں جبکہ پی ڈی ایم و دیگر جماعتوں نے جمہوری طریقے سے عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیئے اقدامات اٹھائے مگر بدقسمتی سے وزیر اعظم عمران خان نے جمہوریت میں آئین کو پاوں تلے روند کر ہٹلر کی یاد تازہ کر دی ہے انھوں نے کہا کہ قوم عمران خان کے خلاف اٹھ چکی ہے کیونکہ عمران خان اور انکی ٹیم ملک و عوام پر بوجھ بن چکی ہے ان رہنماوں نے کہا کہ جمہوری قوتوں کو سیاست کرنے دی جائے اگر سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندگاں کے آواز کو دبانے کا سلسلہ جاری رہا تو ملک میں انار کی پھیلی گی اور ہر میدان میں افراتفری ہو گی ملک کے ذمہ داراں وزیر اعظم عمران خان کے غیرآئینی فیصلوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنکر مزید ناجائز و غیرآئینی اقدامات کو روکے بی این پی کے رہنماوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام عمران خان اینڈ کمپنی کے خلاف فخر بلوچستان سردار اخترجان مینگل اور انکے کاروان کی قیادت میں پی ڈی ایم کے ساتھ شانہ بشانہ ہو کر ہر میدان میں کمربستہ ہو کر بھرپور جمہوری و سیاسی جہدوجہد جاری رکھے گی۔


