اور عدالتی فیصلہ آگیا!

اب عدالتی فیصلہ آ چکا ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق مختصرعدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے:”اول: ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ مسترد، دوم:وزیر اعظم کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ یا تجویز کالعدم،سوم: ہفتے کے روز اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوگا، چہارم: تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی“۔میڈیا پر ججز کو فیصلہ سناتے ہوئے نہیں دکھایا گیا۔چار بجے کے قریب عدالت نے فیصلہ محفوظ کرنے اور 7:30بجے شام کو سنانے کا اعلان کیا تھا۔فیصلے میں تاخیر ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ تھی، پہلے ہی ڈالر190روپے تک پہنچ چکا تھا۔اسٹاک ایکسچینج بھی گراوٹ کا شکار تھی۔ہر کس و ناکس کی نظریں سپریم کورٹ پر مرکوز تھیں، سب بے چینی سے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ فریقین کے وکلاء اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو شخصی طور پر(اصالتاً) سنا۔ بعض وکلاء کو زبردست تیاری کرکے آنے پر تعریف بھی کی۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی عدالت کے رو برو کہا:”الیکشن کیسے لڑیں؟ہم پر غداری کے الزامات ہیں، ہم اپنے گھر والوں کے سامنے نہیں جا سکتے!“،تحریری فیصلہ سامنے آنے کے بعد دیکھا جاسکتا ہے کہ شہباز شریف کی کس حد تک داد رسی کی۔در اصل یہ ایک مشکل، نازک اور حساس نوعیت کا مقدمہ تھا،اس کا فیصلہ دورس نتائج کا حامل ہوگا۔اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے موجودہ حالات میں قابل عمل ممکنہ حل پیش کر دیا ہے۔فریقین کو اس پر صدق دل سے عمل کرنا ہے۔اٹانی جنرل خالد جاوید خان نے پہلے ہی بینچ کو بتایا کہ وہ ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کو غلط سمجھتے ہیں لیکن اس کے بعد انہوں نے سیف الرحمٰن کیس کے فیصلے کورہنما بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ رولنگ غلط قرار دینے کے بعد نئے انتخابات کا راستہ کھلا رہنے دیں، اس آپشن کا راستہ نہ روکیں۔اسی دوران عدالت بار بار یہ سوال بھی وکلاء سے پوچھتی رہی کہ معاملے کو عوام کے سامنے کیوں نہ رکھا جائے؟ نئے انتخابات کیوں نہ کرائے جائیں؟ اپوزیشن بوجوہ نئے انتخابات سے گریزاں ہے۔ موجودہ عوامی موڈ کے پیشِ نظر اپوزیشن کو خدشہ ہے کہ ووٹرز کی اکثریت اسے ووٹ نہیں دے گی۔سابق وزیر اعظم عمران خان نے امریکی سفیر کے بھیجے گئے مراسلے کو عوام میں لا کر یہ بتایا ہے کہ اپوزیشن نے جو عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی ہے وہ امریکہ کے کہنے پر پیش کی ہے،اور یہ اقدام پاکستان کی خود مختاری کے منافی ہے۔ کوئی ملک ہمارے داخلی امور میں ہمیں ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔اسے پی ٹی آئی کی ذہانت کہیں یا خوش قسمتی، عوام نے مہنگائی کو بھلا دیا ہے، عوام کی زبان پر پر اب امریکی سفیر کا مراسلہ ہے۔یوں لگتا ہے جیسے عوام کے سامنے شہید بھٹو ”زندہ“ کھڑا ہے،جسے امریکہ نے ”عبرت کا نمونہ“بنا دیا تھا۔عوام کو یاد آگیا کہ بھٹو شہید نے راجہ بازار میں عوام کے سامنے لہراتے ہوئے کہا تھا:”امریکی دھمکی سے ڈر کرہم اپنی سلامتی کا سودا نہیں کریں گے“۔اس بہادرانہ اعلان کی قیمت پھانسی کا پھندہ چوم کر ادا کی۔ اسے بھی تاریخ کا جبر ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ مہنگائی کے ستائے عوام اپنے بجھے چولھے بھول کر امریکی مداخلت کے خلاف سینہ سپر ہو گئے۔سب جانتے ہیں کہ اپوزیشن26مارچ2018سے اس حکومت کو گھر بھیجنے اور نئے آزادانہ، منصفانہ اورشفاف انتخابات کا مطالبہ کر رہی تھی۔آج انہیں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور اس کے فوراً بعدوزیر اعظم کی جانب سے ارسال کردہ تجویز پر صدرِ مملکت نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے اپوزیشن کو موقعہ فراہم کردیا ہے تو وہ جس اسمبلی کو گھر بھیجنے کے لئے گلی گلی جلسے کر رہی تھی، اسی کو بحال کرانے پر بضد ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں سے کس کے مؤقف کو سپریم کورٹ کا 5رکنی لارجربینچ پذیرائی بخشے کا ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں،اس لئے کہ ہر پل ایک نئی صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے۔اچھا ہوا عدالت بحث ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے بڑھ کر قومی سلامتی کمیٹی کی منٹس کو فی الحال ہاتھ نہیں لگایا،اور اس بحر بیکراں میں کھوج لگانے والے غوطہ خورنہیں بلائے۔ورنہ بحر کی وسعت اور گہرائی میں کودنے والوں کے ہاتھ کچھ ہاتھ نہ لگتا۔واضح رہے پاکستان امریکی خوشنودی کے لئے مزید حکومتیں قربان کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔اب تو یہ بھی میڈیا پر آ چکا ہے کہ نیپال کو دھمکیاں دینے والا بھی یہی ڈونلڈ لو تھا۔بھارت کو روس سے اسلحے کی خریداری سے روکنے کی نصیحت کرنے والا یہی امریکی عہدیدار ہے جو دو چار روز قبل بھارت کے دورے پر آیا ہوا تھا۔ایسی اطلاعات اپوزیشن کے نقصان دہ ہیں۔مگر اپوزیشن بے بس ہے، رکوا نہیں سکتی،عالمی میڈیا ابھی اس کی”پہنچ“ سے باہر ہے۔ابھی تو ملکی میڈیا بھی اپوزیشن کا کلی طور پر حامی نہیں بن سکا، دو حصوں میں منقسم ہے۔ریٹنگ کے تقاضے کچھ اور ہیں۔عوامی پسند و ناپسند کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ریموٹ جس کے ہاتھ میں،ماضی کی طرح ایک ہی چینل دیکھنے پر مجبور نہیں۔تو نہیں اور سہی والی دنیا میں زندہ ہے۔خارجہ امور کا دائرہ امریکہ سے برسلز تک پھیلا ہوا ہے۔عدالتی اختیارات تو میمو گیٹ اسکینڈل کے مرکزی کردار کو،تاحال موصولہ اطلاعات کی روشنی میں،سماعت کے لئے طلب کرنے سے پہلے ختم ہو جاتے ہیں۔برطانیہ میں مقیم عدالت کو مطلوب افراد اس کی دسترس سے باہر ہیں۔خارجہ امور کی تہہ تک جانا شاید وہ خود بھی پسند نہیں کرے گی۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ راستے میں حائل ہوگا۔نہ جانے اور کون کون سے قواعد و ضوابط رکاوٹ بن جائیں؟ لیکن اس کے باوجود غیر ملکی تسلط قیامت تک کے لئے قبول کرنا بھی ممکن نہیں۔اب پاکستان کو نہیں، امریکہ کو سوچنا ہوگا کہ دنیا اس کا کہنا1990کی دہائی کی طرح ماننے سے کیوں انکاری ہے۔کیا نیپال اس دوران اتنا بڑا ملک ہوگیا ہے کہ امریکہ کی دھمکیوں کو نظر انداز کرنے لگا ہے؟نہیں، نیپال کا حدود اربعہ اور آبادی میں اتنا اضافہ نہیں ہواکہ وہ امریکا کو للکارنے لگے۔اس خطے کے بعض عوامل اس دوران تبدیل ہو گئے ہیں۔ بھارت نے 5اگست کو اپنے آئین میں بعض ایسی ترامیم کر لیں جو عالمی شرائط کے تحت اسے نہیں کرنی چاہیئے تھیں۔اس کے نتیجے میں چین لائن آف ایکچوئل کنٹرول عبور کرکے نیپال تک پہنچ گیا ہے اورنیپال بھارتی اثر و رسوخ میں نہیں رہا،امریکی عہدیدار کو یہ پہلو بھی سامنے رکھنا چاہیے تھا۔اس فیصلے کے بعد اپوزیشن کو بھی 90کی دہائی سے باہر نکلنا ہوگا،زمینی حقائق نظر انداز کرنے کی غلطی نہ دہرائے،مان لے،پرانے نعرے کثرتِ استعمال سے اپنی کشش اور جاذبیت کھو بیٹھے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں