فوج جمہوریت کی حفاظت نہیں کرسکتی، قوم اپنی جمہوریت اور خودداری کی حفاظت کرتی ہے، عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ اس ملک نے کبھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی جب تک ہمارے لوگوں کی بہتری کے لیے نہیں ہوگی اس وقت تک کسی اور قسم کی خارجہ پالیسی نہیں بنانی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں 22 کروڑ لوگوں کو کیسے غربت سے نکالنا ہے، اس وقت نکال سکتے ہیں جب ہم کسی تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے اور امن کا شراکت دار بنیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے، جمہوریت کی حفاظت فوج نہیں کرسکتی، باہر سے کوئی نہیں کرسکتا ہے، آج جو ہماری خود مختاری پر حملہ ہوا ہے، آج اس پر اسٹینڈ نہیں لیں گے تو آگے جو بھی پاور میں آئے گا تو سب سے پہلے یہ دیکھے گا کہ سپرپاور ناراض تو نہیں ہورہا ہے اور وہ وہی کرے گا جو سپرپاور چاہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی آزاد ہونی چاہیے، اپنے ملک کے عوام کے لیے ہونی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم سب سے اچھے تعلقات رکھیں، ہم امریکا کو سمجھائیں کہ عمران خان امریکا مخالف نہیں ہیں، ہم ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونے والی قوم نہیں ہیں۔

کوئٹہ (انتخاب نیوز )وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قوم سے خطاب میں کہا کہ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا اس سے مایوسی ہوئی، واضح کردوں کہ سپریم کورٹ اور عدلیہ کی عزت کرتا ہوں، میں نے آزاد عدلیہ کی تحریک میں ایک دفعہ جیل گیا، میرا ایمان ہے کہ جب تک کسی ملک میں انصاف نہیں ہوتا افسوس ہوتا ہے کہ عدلیہ کا فیصلہ جانبدارانہ تھا۔اسمبلیاں تحلیل کرنے کی وجہ پاکستان کے مفاد میں بیرونی مداخلت تھی۔بیرون ملک سے سازش تھی کہ حکومت کو گرایا جائے، عدلیہ کو دیکھ لینا چاہیے تھا کہ کیا ہم سچ بول رہے ہیں یا نہیں۔

میرے روس جانے پر پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی، وزیر اعظم


میں آپ کو بتاﺅں کہ مراسلہ کیا ہوتا ہے، دوسرے ملکوں کے حوالے سے ایمبسی سیکریٹ ورڈنگ کرتی ہے، اگر ہم سیکریٹ کوڈ پبلک کردیں تو دنیا کو پتا چل جائے گا کہ ہم نے غلط کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ سائفر ہے، ہمارے سفیر بیرون ملک سے کوڈ میں دستاویزات بھیجتے ہیں، سائفر پیغام اعلیٰ خفیہ ہے، اس پر کوڈ ہے اس لیے میں عوام میں نہیں دے سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ دے دوں تو بیرون ملک ہمارا کوڈ پتہ چلے گا۔ ہمارے امریکہ میں موجود ایمبسڈر کی ملاقات امریکی سفیر سے ہوئی، امریکی سفیر نے کہا کہ عمران خان کو روس نہیں جانا چاہیے تھا۔ اس نے کہا کہ اگر آپ عمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے بچ جاتا ہے تو پاکستان کو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر عمران خان اپنے عہدے سے نہیں ہٹتا تو پاکستان کو نقصان ہوگا، اور اگر وہ ہار جاتا ہے تو پاکستان کو معاف کردیا جاتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ 22 کروڑ لوگوں کے منتخب وزیر اعظم کیخلاف حکم دیا جارہا ہے کہ اگر یہ شخص وزیر اعظم بن گیا تو ملک کو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، اگر ہم نے ایسے ہی زندگی گزارنی ہے تو ہم کیو ں 23 مارچ اور 14 اگست مناتے ہیں۔

بھارت ایک خودار قوم ہے، کسی سپر پاور کی جرا¿ت نہیں کہ اسے ہدایت دے، عمران خان


انہوں نے کہا کہ میڈیا کو شرم نہیں آئی کہ ایک پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر وہاں جارہے ہیں اور وہ بھی ان کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پتہ چلتا ہے کہ امریکی سفارت کا اپوزیشن کے لوگوں سے مل رہے ہیں، خیبرپختونخوا سے عاطف خان نے بتایا کہ ہماری رکن اسمبلی شاندانہ نے بتایا کہ انہیں بتایا کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد آرہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے، ہم خود دار یا غلام بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا جرم یہ ہے کہ انہوں نے میری ساری پروفائل دیکھی تو اس نے ڈرون، عراق جنگ، افغانستان کے بارے میں کہتا رہا ہے فوجی حل نہیں، مذاکرات سے بات ہوگی، ڈرون کے خلاف بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 400 ڈرون حملے ہوئے تو کس نے دھرنے دیے، عمران خان نے دیا، ان کو پتہ ہے عمران خان نے دھرنے دیا، میرے باہر پیسے نہیں ہیں ان کو پتہ ہے اس لیے سارا ڈراما ایک آدمی کو ہٹانے کے لیے ہورہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ اپنا پیسہ بچانے کے لیے کرتے ہیں، اور ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس طرح کا پاکستان چاہتے ہیں، مجھے افسوس ہوتا ہے، ہندوستان کے ساتھ ہم آزاد ہوئے تھے اور میں ہندوستان کو دوسروں سے زیادہ جانتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک خود دار قوم ہیں، کسی سپر پاور کی جرات نہیں ہے اور یہ تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں یہ کریں، حالانکہ روس سے وہ تیل درآمد کر رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں پابندیاں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرے لیے پہلے اپنی قوم ہے اور کسی اور کی خاطر اپنی قوم کو قربان نہیں کرسکتا، قبائلی علاقوں میں کیا گزری تھی، 35 لاکھ مہاجر ہوئے، کسی نے جائزہ بھی لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے صاحب اقتدار لوگ ڈالرز کے لیے ہمیں جنگوں کے لیے اندر پھنسا دیتے ہیں، روس کے خلاف جنگ میں ہم صف اول میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیسے لے کر جب کسی کی جنگ میں شرکت کرتے ہیں تو وہ آپ کی عزت نہیں کرتے، روسیوں کے جانے کے دو سال بعد پاکستان پر پابندیاں لگائیں اور کسی نے پاکستان کی تعریف نہیں کی۔

امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کروں گا، عمران خان کا احتجاج کا اعلان، قوم کو اتوار کے روز گھروں سے باہر نکلنے کی ہدایت
وزیراعظم نے کہا کہ اپنے نوجوانوں سے بات کرتا ہوں کہ میں اس امپورٹڈ حکومت کو بالکل تسلیم نہیں کروں گا اور میں قوم کے ساتھ نکلوں گا۔ ہم امپورٹڈ حکومت کے نیچے بیٹھ جائیں اور ان کی ہدایات پر عمل کریں، آپ نے کل رات کو عشاءکے بعد باہر نکلنا ہے، میں کسی صورت یہ برداشت نہیں کروں گا کہ کسی امپورٹڈ حکومت کے نیچے بیٹھ جاﺅں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں