محکمہ تعلیم آواران میں تعلیمی تباہ حالی کا نوٹس لے، بی ایس او

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان کی جانب سے ضلع آواران میں تعلیمی نظام کی تباہ حالی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تحصیل مشکے سمیت ضلع بھر میں تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آواران بلوچستان کا پسماندہ ترین ضلع ہے جہاں کے بچے تعلیم جیسے بنیادی حقوق سے یکسر محروم ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی شدید فقدان ہے جبکہ بعض پرائمری اسکولوں کے بچے چھت سے محروم ہیں۔ ہائی اسکولوں کی عمارتیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہے ہیں۔نئے تعلیمی سال میں چار مہینے گزرنے کے باجود بھی آواران کے سرکاری اسکولوں میں طالبعلموں کو درسی کتابیں میسر نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ آواران انٹرکالج تباہی کے دہانے پر ہے۔ انٹرکالج آواران میں پہلے ہی سے اساتذہ کا فقدان تھا بجائے خالی اسامیوں کو پرکرنے محکمہ ہائیرایجوکیشن کی جانب سے حال ہی میں کالج سے اساتذہ کی ٹرانسفر سے مذید تعلیمی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ کالج کی عمارت خستہ ہال ہے جبکہ طلباءجدید تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔ ترجمان نے کہا ہے کہ آواران موجودہ وزیراعلیٰ کا آبائی علاقہ ہے لیکن اسکے باجود وہاں کی تعلیمی نظام تباہ ہے۔ آواران سمیت بلوچستان بھر میں اسکولوں اور کالجز میں سہولیات کی عدم فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت بلوچستان میں تعلیمی بہتری کیلئے سنجیدہ نہیں ہے۔بلوچستان میں سابقہ اور موجود حکومت نے ہمیشہ تعلیمی امرجنسی کا ڈھونگ رچایا ہے مگر عملی طور پر تعلیمی بہتری کیلئے کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے جاچکے ہیں۔ ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آواران میں تعلیمی تباہ حالی کا نوٹس لیا جائے جبکہ اسکولوں اور کالج میں نئے اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں