حکومت سازی کے بعد نئے چیلنجز

حکومت سازی ایک سادہ سا عمل ہے جلد ہی مکمل ہوجائیگااصل کام اس کے بعد شروع ہوگا۔پی ٹی آئی نے مستعفی ہو کر قومی اسمبلی میں میدان حکومت کے لئے خالی چھوڑ دیا ہے۔اس کے نتائج مثبت کم اور منفی زیادہ ہونے کے امکانات نظر آتے ہیں۔جیسی قانون سازی مناسب سمجھیں گے، با آسانی کر لی جائے گی۔یہ کام پی ٹی آئی کی موجودگی میں بھی ممکن تھی، تاہم لیڈر آف اپوزیشن کو ملنے والی مراعات سے پی ٹی آئی نے خود کو دور کر لیا ہے۔البتہ وزیر اعظم شہباز شریف کی مخلوط حکومت کو سڑکوں پر ہلکی پھلکی موسیقی یا بلند آواز یں سنائی دیں گی جن کا وہ ماضی میں بھی تحمل سے سامنا کر چکے ہیں۔میڈیا پر حکومت سے قریب رہنمابشمول سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پی ٹی آئی حکومت کے باقی ماندہ ڈیڑھ سال مکمل کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ اس بارے ابھی کوئی پیش گوئی درست نہیں، اس کا انحصار احتجاج کی شدت پر ہوگا۔اگر حالات قابو میں رہے تو یہ مدت پوری ہو جائے گی،لیکن اس کے برعکس صورت حال میں یہ مدت کم ہو سکتی ہے۔بہر حال اس کادارومدار کسی فرد واحد کی خواہش پر نہیں ہوگا، زمینی حقائق فیصلہ کریں گے۔حکومت اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتی کہ عوامی رد عمل بہت سارے فیصلوں کی بنیاد بنتا ہے۔پی ڈی ایم کی تشکیل اسی ضرورت کی تکمیل تھی۔ توقع ہے کہ اس ضمن میں حکومت عجلت سے کام، نہیں لے گی۔ حکومت کو اس بار بعض نئے چینجز کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ان میں پی ٹی آئی کی ایک مؤثر سیاسی عنصر کے طور پر موجودگی بھی ہے۔بعض مبصرین اور ماہرین سیاست و معیشت کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی نازک مزاج (برگر)فیملیز کی پارٹی ہے، قید و بند کی تکالیف برداشت کرنے کا وقت آیا تو یہ گھروں میں بیٹھنا اور رہنا پسند کریں گی۔اسے بھی فی الحال ایک مفروضہ کہہ سکتے ہیں۔اس مفروضے کو کلیہ بننے میں وقت لگے گا، پی ٹی آئی اس خیالی تجربے سے گزرے گی تب معلوم ہوگا کہ یہ ثابت قدم رہی یا کسی مردار پرندے کے پروں کی طرح بکھر گئی؟ تجربے کے نتائج کے بغیر تصوراتی منظرکو یقین کا درجہ نہ دیا جائے، اس کے برعکس،یہ تاریخی صداقت ہے کہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بعد پہلی مرتبہ عوام کسی معزول وزیر اعظم کے گرد جمع ہوئے ہیں۔مسلم لیگ کے سابق وزیر اعظم عدالتی فیصلے کے خلاف جی ٹی روڈ سے رائے ونڈ تک کا سفر ماضی قریب کا واقعہ ہے، لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہوگا۔موازنہ کیا جائے تو فرق واضح ہوجائے گا۔دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی مستعمل ہے،یہ 70 یا 90 کی دہائی کا بے خبری والا دور نہیں۔آج ایک پی ٹی وی نہیں کہ رات دس گیارہ بجے لوگ قومی ترانہ سن کر لوگ سونے چلے جائیں۔درجنوں پاکستانی اور غیر ملکی چینلز کے علاوہ سوشل میڈیا بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق حکومت کے پیکاقانون کو مسترد کر دیا ہے، اس کا فائدہ تمام چینلز اٹھائیں گے، پرنٹ میڈیا بھی مستفید ہوگا۔ٹیکنالوجی صرف پیداواری رشتے تبدیل نہیں کرتی، سوچ پر بھی اثر انداز ہوتی وزیر اعظم کا عہدہ شہباز شریف نے پہلی بار سنبھالا ہے، انہیں بعض نئی حقیقتوں تک رسائی ملے گی۔ان کی حیرتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔اگر انہوں نے اپنے بڑے بھائی کی انگلی پکڑ کر چلنے کی دیرینہ عادت سے نجات حاصل کر لی تو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں گے۔ یہ بھی اپنی جگہ سچ ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان میں لاکھ بشری کمزوریاں موجود ہوں گی، لیکن ان کے دل میں معاشرے کے محروم اور کچلے ہوئے طبقات کی حالت بہتر بنانے کا جذبہ کسی بھی دوسرے پاکستانی سیاست دان کے مقابلے میں زیادہ ہے۔مبصرین ساڑھے تین برسوں میں ان کی صرف ایک خرابی تلاش کر سکے ہیں کہ انہوں نے روایتی سیاست دانوں سے الگ راستہ اختیار کیا،مخالفین سے ہاتھ نہیں ملایا، سمجھوتہ نہیں کیا۔پاکستان میں اول تو سائنسی بنیادوں پر سوچنے کی اداراتی کوشش مضبوط نہیں ہو سکی۔مذہبی مکاتبِ فکر فرقہ وارانہ دائروں میں قید ہیں،وہ ان دائروں سے باہر تمام بنی نوع انسان کو ”کافر“ سمجھتے ہیں،انہیں یہودیوں کا ایجنٹ کہتے اور مانتے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی ابھی تک ان کے عقائد کی دیواریں پار نہیں کرسکی۔جبکہ معیشت کو سیاست کی حکمراں سمجھنے والے بھی اپنا فلسفہ اکثریت تک پہنچانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرسکے۔وہ بھی”ترمیم پسند“ اور”جدید ترمیم پسند“ جیسی اصطلاحوں میں پھنس کر جدید فرقہ بندی کا شکار ہو گئے۔ایک گروپ نے چین کو نجات دہندہ مان لیا جبکہ دوسروں ماسکو کی طرف منہ کرلیااور ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بند ہو گئے۔ محفلوں میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے وقت دلوں کی فرقہ وارانہ کدورت سے مغلوب رہے۔دیر تک رکنا پسند نہیں کرتے تھے۔ نقصان ترقی پسند سوچ کو پہنچا۔ٹریڈ یونین سیاست کی نرسری ہے، اس کا دو آنے،چار آنے کی جدوجہد کہہ کر مذاق اڑایا گیا، دوسروں نے این جی اوز کی دکانیں سجا لیں۔ انقلابی فکر دوسروں تک پہنچانے کا عمل سست ہوگیا۔انقلابی مبلغین کے لئے اپنے رویوں کا دفاع پہلی ترجیح بن گیا۔وزیر اعظم شہباز شریف کو سارے معاملات اپنے فہم کے مطابق طے کرنا ہوں گے۔خیبر پختونخوا میں متحدہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے چکی ہے،پنجاب میں بھی حکومت سازی کا فیصلہ جلد سامنے آجائے گا۔اگر حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بن گئے تو پی ٹی آئی اس اتفاق کو اپنے رنگ میں بیان کرے گی۔ایسی انوکھی مثال سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔نون لیگ کے کارکنوں کے لئے دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا۔اس بڑے عہدے کے لئے خاندان سے باہر پنجاب سے کسی متوالے کی نامزدگی ایسی بحث سے بچا لیتی۔یہ باتیں بظاہر چھوٹی لگتی ہیں لیکن چوہدری نثار علی کی نون لیگ سے علیحدگی کا سبب چناؤ کی ایسی ہی خواہش تھی۔وزیر اعظم کے پاس اب بظاہر تمام اختیارات ہیں، ان اختیارات کو استعمال کیا جائے، ورنہ ان کی افادیت ختم ہو جائے گی۔یاد رہے پارٹی کارکنوں کے سینے میں بھی دل اور قدرت کا دیا ہوا سوچنے کے لئے ایک دماغ ہوتا ہے۔تمام اختیارات کا ایک خاندان تک محدود ہونا بھارت کی بانی سیاسی جماعت کانگریس کے لئے حد درجہ نقصان دہ ثابت ہوچکا ہے۔ اس تجربے سے سیکھا جانا چاہیئے۔عام آدمی ملک کو آگے کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے،چاہے یہ کام کوئی بھی جماعت سنجیدگی سے کرتی نظر آئے۔مسلم لیگ نون نے ساڑھے تین سال کے دوران کارکردگی کی بیلنس شیٹ یقینا بنائی ہوگی،اسے سامنے رکھا جائے،فیصلے اسی کی روشنی میں کئے جائیں۔ورنہ لیگی رہنما خواجہ آصف کے کہنے کے مطابق چھت کسی وقت سر پر آ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں