مردم شماری کا نوٹی فکیشن بہت ضروری تھا،آج کل بہت کنفیوژن پھیلائی جارہی ہے،چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے بلوچستان حکومت کی بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن میں بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا وکلاء کے ہمراہ پیش ہوئے اور بتایا کہ مجھے شارٹ نوٹس ملا، بڑی مشکل سے پہنچا ہوں۔چیف سیکرٹری بلوچستان نے بتایا کہ بلوچستان اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد پاس کی ہے،چیف الیکشن کمشنر نے اس پر ریمارکس دیئے کہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخاب میں تاخیرنہیں ہو سکتی۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی منظورکردہ قرارداد کی کوئی اہمیت نہیں، مردم شماری حلقہ بندیوں کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث لایا گیا، سپریم کورٹ کی واضح ہدایت ہے، بلدیاتی الیکشن ہر صورت کرانے ہیں۔درخواست کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ بلوچستان اسمبلی کی منظورکردہ قرارداد کی کوئی اہمیت نہیں، صوبے میں (آج) جمعہ سے کاغذات نامزدگی کا عمل شروع ہوگا۔وکیل بلوچستان حکومت نے درخواست کی سماعت کے دوران بتایا کہ بلوچستان کی آبادی بڑھ گئی ہے، دوبارہ حلقہ بندیاں ضروری ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات ضروری نہیں کہ ایک ہی بار ہوں، پہلے سے تمام صوبوں میں الیکشن تاخیر کا شکار ہوچکے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس تاخیرکی وجوہات تھیں اور آئین و قانون میں گنجائش تھی،مردم شماری کا نوٹی فکیشن بہت ضروری تھا،آج کل بھی بہت کنفیوژن پھیلائی جارہی ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اس میں ذاتی حیثیت نہیں ہے،آئین و قانون کے تحت ہی الیکشن کمیشن انتخابات کراتا ہے، انتخابات ملتوی کرنے یا آپ کی استدعامیں آئینی یا قانونی گنجائش نظر نہیں آرہی۔انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیں کس آئین و قانون کے تحت بلدیاتی انتخابات ملتوی کریں؟سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ڈیوٹی ہے بلدیاتی الیکشن کرائے۔چیف الیکشن کمشنرنے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ الیکشن کمیشن اپنا فیصلہ واپس لے، اگرصوبائی حکومت نے بہانے بنائے تو ہم سپریم کورٹ سے کہہ دیں گے، عدالت کوبتادیں گے صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات انعقاد میں مدد نہیں کر رہی۔چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ امن وامان کے مسئلہ کی فکرنہ کریں، ہم اداروں سے رابطے میں ہیں، بلدیاتی انتخابات سے متعلق صوبائی حکومت سے 15 دن مشاورت رہی ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کی کابینہ قرارداد پاس کر دے کہ بلوچستان میں الیکشن ہی نہ ہوں تو کیا ایسا ہوگا؟ آئین یا قانون میں اس چیزکی کوئی گنجائش نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں