افغان صوبوں خوست اور کنڑ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں 43 افراد جاں بحق
کوہاٹ، کابل (انتخاب نیوز) پاک افغان سرحد پر واقع افغان صوبوں خوست اور کنڑ میں مبینہ طورپر فضائی بمباری اورڈرون حملے کے نتیجے میں 43 افراد جاں بحق اور متعدد دیگر زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جاں بحق و زخمیوں میں بزرگوں‘خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل بتائی جاتی ہے جن میں زیادہ تر کا تعلق شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے افغان علاقوں میں رہائش پذیرپاکستانیوں کی ہے۔ اگرچہ جاں بحق افراد کی تعداد کے بارے متضاد اطلاعات ہیں تاہم سرحد پار سے موصولہ بعض مصدقہ اطلاعات اور افغان میڈیا کے مطابق ہفتہ کی علی الصبح سحری کے وقت تقریباً تین بجے افغان صوبہ خوست کے ضلع سپیرا کے سرحدی علاقوں پیسا میلہ ‘میر چھپراور افغان دبئی میں فضائی حملے کئے گئے جن میں حاجی بازنامی ایک قبائلی ملک کے خاندان کے 37 افراد جاں بحق اورکئی دیگر زخمی ہوگئے۔جاں بحق اور زخمیوں میں بزرگ‘ خواتین اور بچے شامل بتائے جاتے ہیں ۔ اس حملے کے نتیجے میں متعدد مویشی ہلاک‘ گھر مہندم اور گاڑیوں سمیت دیگر املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق فضائی حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے تھا جوکئی سال قبل شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقہ دتہ خیل شوال سے افغانستان منتقل ہوکر افغانستان میںرہائش پذیر ہوگئے تھے ۔ادھر صوبہ کنڑ کے ضلع شلتن کے علاقہ چوگام میں بھی سحری کے وقت مبینہ طورپر ایک گاو¿ں پربمباری کی گئی جس کے نتیجے میں ماں اپنے پانچ بچوں سمیت چھ افراد جان کی بازی ہارگئی جبکہ ایک کمسن بچہ زخمی ہوگیا۔صوبہ کنڑ میں اطلاعات کے صوبائی سربراہ مولوی نجیب اللہ نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ممکنہ طور پرمیزائل حملہ کے نتیجے میں ایک ہی گھرانے کے چھ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے کالعدم تحریک طالبان اور مشتبہ افراد کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے گزشتہ روز پاک فوج کے ایک قافلہ پر حملہ کرکے سات جوانوں کو جاں بحق کیا گیاتھا۔ادھرافغان میڈیا نے الزام عائدکیا ہے کہ یہ فضائی حملے پاکستانی جیٹ طیاروں نے کئے ہیں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ان علاقوں پر ڈرون حملوں اوربھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی تاہم اب تک پاکستانی حکام ‘پاک فوج اور افغان حکومت نے ان اطلاعات پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔


