کابل بم دھماکے کے زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالی گئی، ایچ ڈی پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں کابل کے مغربی علاقے دشت برچی کے اسکولوں پر حملوں، دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعہ کے نتیجے میں درجنوں معصوم طالبعلموں و اساتذہ کی ہلاکت اور سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہونے کے اقدام کو انسانیت سوز و سفاکی کی بدترین مثال قرار دیا ایک بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں آباد ہزارہ، و دیگر نسلی و لسانی اقوام کو صدیوں سے مذہبی، نسلی اور لسانی تعصب کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، جسکی وجہ سے اپنے ہی ارض وطن پر آباد اقوام تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے اور ان پر ترقی، تعلیم و صحت کے راستے بند کردئیے گئے ہیں یہی عمل دھماکوں کے بعد زخمیوں کے لواحقین کو اس وقت برداشت کرنا پڑی جب وہ اپنے پیاروں کو فوری طبی امداد کی غرض سے ہسپتال منتقل کرنا چاہ رہے تھے تب طالبانی فورسز نے ان پر تشدد کرکے بنیادی طبی امداد کی فراہمی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی اور واقعہ کی میڈیا کوریج روکھ دی بیان میں کہا گیا کہ جب سے طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرکے اقتدار سنبھال لی ہے تب سے ہزارہ قوم پر ہر طرح کے راستے بند کرکے انھیں بدترین جبر سے دوچار کررکھا ہے طالبانی قبضہ کے بعد سے ہزاروں ہزارہ کو نسلی و لسانی تعصب کی وجہ سے قتل کرکے ہزارہ قوم کو خوف و دہشت کی صورتحال سے دوچار کیا گیا ہے یہ صورتحال عالمی برادری سے تقاضا کررہی ہے کہ وہ افغانستان میں جاری بدترین نسلی تعصبات کا نوٹس لیں اور افغانستان کے تمام محکوم اقوام کو انکے بنیادی حقوق و تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں بیان میں معصوم طالبعملوں کی شہادت و زخمی ہونے کے واقعات پر انکے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام ظلم و جبر کی حکومت کے خلاف ازخود کھڑے ہوکر اپنے تحفظ کو یقینی بنائے اور اپنے حقوق کے لئیے آواز بلند کرکے ظلم و جبر کا خاتمہ کریں دراین اثنا پارٹی بیان میں دالبندین میں سیکورٹی فورسز کے فائرنگ سے عام بےگناہ شہریوں کی بڑی تعداد میں زخمی ہونے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج و مظاہرے جمہوری عمل حصہ ہے جسے زبردستی روکھنا انتہائی غیر قانونی اور عوام کے بنیادی شہری حقوق کے منافی اقدام ہے بیان میں واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرنے اور متاثرین کو فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں