چاغی ونوکنڈی میں نہتے بلوچوں کا قتل المیہ ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کال پر سانحہ چاغی ونوکنڈی میں نہتے بلوچوں کے قتل وغارت گیری ظلم وجبر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اور اس سانحہ میں ملوث ملزمان کے گرفتاری کے سلسلے میں بی این پی کوئٹہ کے زیر اہتما ایک ریلی جو عدالت روڈ،ٹیکسی سٹینڈ، جناح روڈ،منان چوک سے گشت کرتے ہوئے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے ایک احتجاجی جلسے کی صورت میں تبدیل ہوا جس میں بی این پی کے درجنوں کارکنوں، عہدیداروں نے بھر پور انداز میں حصہ لیا مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز تھے جو اس واقعے کے خلاف نعرے درج تھے ریلی کی قیادت پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین وضلعی صدر کوئٹہ بی این پی غلام نبی مری، میر عبدالغفور مینگل، آغا خالد شاہ دلسوز،شمائلہ اسماعیل مینگل،ثانیہ حسن کشانی، بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے ممبر عدنان شاہ بلوچ، بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری میر جمال لانگو،ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی ودیگرنے کی احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ دنوں چاغی اور نوکنڈی میں سیکورٹی فورسز نے بے گناہ نہتے بلوچ ڈرائیوروں کو جس بے دردی کے ساتھ ظلم وستم قتل وغارت گیری کے ذریعے سے نشانہ بنایا گیا اور اس ظلم کے خلاف جب وہاں کے شہریوں نے پرامن سیاسی وجمہوری انداز میں احتجاج کی گئی تو سیکورٹی فورسز ان پر اندھادھند فائرنگ کیا گیا جس کے نتیجے میں 7کے قریب افراد شدید زخمی ہیں جن میں سے 2افراد کی حالت نازک ہے جو موت وزیست کے کشمکش میں ٹراما سینٹر کوئٹہ میں زیر علاج ہیں ایسے واقعات کا رونما ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بااختیار قوتیں روز اول سے لیکر آج تک بلوچوں کو شہری نہیں سمجھتے ہیں اور ان کی نگاہیں ونظریں یہاں کے ساحل وسائل ہیں اس کی واضح مثال سیندک، ریکوڈک اس خطے پر واقع ہیں وہ یہاں کے وسائل کو نہایت ہی بے دردی سے لوٹ وکھوٹ اور کوڑے کے داموں میں فروخت کرنے اور نکالنے میں مصروف عمل ہیں ان کی نگاہیں یہاں پر رہنے والے افراد کیلئے کچھ بھی نہیں اور یہاں کے بلوچوں کوانسان نہیں سمجھتے ہوئے ان کے انسانی اور بنیادی حقوق کو پرواہ کیے بغیر پاؤں تلے روند ڈالنے میں مصروف عمل ہیں انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کے خلاف ایسے واقعات کا رونما ہونا بلوچستان کی حالات کو مزید خراب کرنے کے طرف دکھیلنے کی کوشش ہے تاکہ طاقت خوف وہراس دھونس دھمکیوں قتل وغارت گیری سے یہاں کے عوام کے سیاسی جدوجہد اور حقوق کی جدوجہد سے بذور طاقت کچلایا جاسکے بلوچستان ہمارا مادر وطن ہے اور یہاں کے ساحل وسائل کی دفاع اور وطن کی ایک ایک انچ کے حفاظت کیلئے ہمارے قومی اکابرین اور رہنماؤں نے طویل ترین قربانیاں دیتے ہوئے مشکل حالات کا مقابلہ کیا ہم نہتے ضرور ہیں لیکن ہم اپنے سرزمین اور اپنے نہتے لوگوں کے ساتھ ایسے غیر انسانی سلوک روش پر کسی بھی صورت میں خاموشی اختیار نہیں کریں گے آج بھی بلوچستان میں عملی طور پر ان لوگوں کا کنٹرول ہے جو گزشتہ 70سالوں سے بلوچستان کے معاملات کو چلارہے ہیں اور وہ سیاسی طور پر بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے تیار نہیں ہے لیکن بلوچستان میں ایسے واقعات کی رونما ہونے سے بلوچ عوام میں مزید غصہ اور اشتعال کا سبب بنے گا جو کسی بھی فریق کیلئے سود مند نہیں ہے بی این پی نے ہمیشہ یہاں کے لوگوں کے ساتھ ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کیا اور ارباب اختیار انسانی حقوق کے علمبردار اور عدلیہ کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش ہے کہ وہ بلوچستان کی گھمبیر سیاسی صورتحال میں مداخلت کرکے حالات کو مزید خرابی کی طرف دکھیلنے سے روکے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پارٹی کے رہنماؤں نے اس واقعے کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ بھی کیا اور وزارتوں واقتدار پر اس لئے حصہ نہیں لی کہ اس واقعے کے خلاف جوڈیشل کمیشن تشکیل دے کر واقعے کا آزادانہ تحقیقات کراکے اس واقعے میں ملوث تمام تر ملزمان اور کرداروں کو منظرعام پر لاکر انہیں قرار واقعی سزا دیا جائے اگر اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کا تعین نہیں ہوسکا اس وقت تک بی این پی سیاسی وجمہوری انداز میں ہر سطح پر آواز بلند کریں گے کیونکہ بی این پی اصولوں،نظریاتی وفکری سیاسی،جمہوری جماعت ہے جنہوں نے ہمیشہ بلوچ قوم اور بلوچستانی عوام کے ساتھ ایسے دلخراش سانحات وواقعات کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے یہاں کے عوام کو مشکل وتکلیف دہ حالات میں تن وتنہا نہیں چھوڑا آج بھی بلوچستان میں یہاں کے بلوچوں کے ساتھ ذریعہ روزگار کے دروازے بند بارڈرٹریڈ گزشتہ کئی عرصوں سے بند ہیں زمیندار نان شبینہ کے محتاج ہیں سیاسی کارکنان کا اغواء برائے لاپتہ کا نہ رکھنے والا سلسلہ تاحال جاری ہے تاکہ بلوچوں کو اپنے وطن پر زمین تنگ کرکے انہیں زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جارہاہے اور انہیں بھوک وافلاس معاشی تنگ دستی کے ذریعے سے معاشی قتل عام کا سلسلہ جاری ہے ایسے استحصالی ظلم وجبر ناانصافیوں کے خلاف بی این پی پارٹی کے محبوب قائد سردار اختر جان مینگل کی مدبرانہ قیادت میں ہر پلیٹ فارم پر جراتمندانہ ثابت قدمی اصولی موقف اپنا کر یہاں کے لوگوں کی حقیقی معنوں میں حقوق کے ترجمانی کرتے ہوئے خاموش نہیں رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں